(۱۴۰۰۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ أَبِی خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : إِذَا تَزَوَّجَ الْحُرَّۃَ عَلَی الأَمَۃِ فَہُوَ طَلاَقُ الأَمَۃِ ، ہُوَ کَصَاحِبِ الْمَیْتَۃِ یَأْکُلُ مِنْہَا مَا اضْطُرَّ إِلَیْہَا فَإِذَا اسْتَغْنَی عَنْہَا فَلْیُمْسِکْ نَحْنُ إِنَّمَا نَقُولُ بِمَا رُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عَلِیٍّ وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
[اخرجہ ابن منصور ۷۳۳۲]
(١٤٠٠٩) حضرت مسروق فرماتے ہیں : جب آپ لونڈی کے ہوتے ہوئے آزاد عورت سے نکاح کریں تو یہ لونڈی کی طلاق ہے، یہ مردار کی مانند ہے جس کو مجبوری کے وقت کھایا جاتا ہے۔ جب وہ اس سے مستغنی ہوجائے تو رک جائے۔ یہ ہم اس لیے کہتے ہیں کہ حضرت علی اور جابر بن عبداللہ (رض) سے یہی منقول ہے۔