(۱۴۰۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ مَوْلَی الأَسْوَدِ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ : أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَہَا الْبَتَّۃَ وَہُوَ غَائِبٌ فَأَرْسَلَ إِلَیْہَا وَکِیلَہُ بِشَعِیرٍ فَسَخِطَتْہُ فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا لَکَ عَلَیْنَا مِنْ شَیْئٍ فَجَائَ تْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : لَیْسَ لَکِ عَلَیْہِ نَفَقَۃٌ ۔ وَأَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ فِی بَیْتِ أُمِّ شَرِیکٍ ثُمَّ قَالَ : تِلْکَ امْرَأَۃٌ یَغْشَاہَا أَصْحَابِی اعْتَدِّی عِنْدَ ابْنِ أَمِّ مَکْتُومٍ فَإِنَّہُ رَجُلٌ أَعْمَی تَضَعِینَ ثِیَابَکِ فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِینِی ۔ قَالَتْ : فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَکَرَتُ لَہُ أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِی سُفْیَانَ وَأَبَا جَہْمٍ خَطَبَانِی فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَمَّا أَبُو جَہْمٍ فَلاَ یَضَعُ عَصَاہُ عَنْ عَاتِقِہِ وَأَمَّا مُعَاوِیَۃُ فَصُعْلُوکٌ لاَ مَالَ لَہُ انْکِحِی أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ ۔ قَالَتْ : فَکَرِہْتُہُ ثُمَّ قَالَ : انْکِحِی أُسَامَۃَ ۔ فَنَکَحْتُہُ فَجَعَلَ اللَّہُ فِیہِ خَیْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِہِ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۸۰]
(١٤٠١٥) سلمہ بن عبدالرحمن فاطمہ بنت قیس سے نقل فرماتے ہیں کہ ابو عمرو بن حفص نے اس کو طلاق بائنہ دے دی اور وہ غائب تھے۔ ابو عمرو بن حفص کے وکیل نے فاطمہ بنت قیس کو کچھ جو دیے جن کی وجہ سے وہ ناراض ہوگئی تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! ہمارے ذمہ تیرے لیے کچھ بھی نہیں ہے تو فاطمہ نے آکر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا : اس کے ذمہ تیرا خرچہ نہیں ہے اور فرمایا : تو ام شریک کے گھر عدت گذار لے۔ پھر فرمایا : میرے صحابہ کا اس عورت کے پاس آنا جانا رہتا ہے، آپ عبداللہ بن ام مکتوم کے ہاں عدت گزار لیں، وہ نابینا صحابی ہے، کبھی آپ کا کپڑا اتر بھی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، جب عدت گزر جائے تو مجھے اطلاع دینا۔ جب عدت گزر گئی تو میں نے بتایا کہ مجھے معاویہ بن ابی سفیان اور ابو جہم نے نکاح کا پیغام دیا ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابو جہم اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں رکھتا اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس مال نہیں ہے۔ آپ اسامہ سے نکاح کرلیں۔ کہتی ہیں : میں نے اس کو ناپسند کیا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسامہ سے نکاح کرلو۔ کہتی ہیں : میں نے نکاح کرلیا تو اللہ نے اس میں برکت ڈال دی اور میں رشک کی جانے لگی۔