hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14023

.

سنن البيهقي

14023
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۰۱۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَنْظَلَۃَ الْغَسِیلِ قَالَ حَدَّثَتْنِی خَالَتِی سُکَیْنَۃُ بِنْتُ حَنْظَلَۃَ وَکَانَتْ بِقُبَائٍ تَحْتَ ابْنِ عَمٍّ لَہَا تُوُفِّیَ عَنْہَا قَالَتْ : دَخَلَ عَلَیَّ أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیٍّ وَأَنَا فِی عِدَّتِی فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ : کَیْفَ أَصْبَحْتِ یَا بِنْتَ حَنْظَلَۃَ فَقُلْتُ : بِخَیْرٍ جَعَلَکَ اللَّہُ بِخَیْرٍ فَقَالَ : أَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتِ قَرَابَتِی مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَرَابَتِی مِنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَحَقِّی فِی الإِسْلاَمِ وَشَرَفِی فِی الْعَرَبِ قَالَتْ فَقُلْتُ : غَفَرَ اللَّہُ لَکَ یَا أَبَا جَعْفَرٍ أَنْتَ رَجُلٌ یُؤْخَذُ مِنْکَ وَیُرْوَی عَنْکَ تَخْطُبُنِی فِی عِدَّتِی فَقَالَ : مَا فَعَلْتُ إِنَّمَا أَخْبَرْتُکِ بِمَنْزِلَتِی مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أُمِّ سَلَمَۃَ بِنْتِ أَبِی أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ الْمَخْزُومِیَّۃِ وَتَأَیَّمَتْ مِنْ أَبِی سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الأَسَدِ وَہُوَ ابْنُ عَمِّہَا فَلَمْ یَزَلْ یُذَکِّرُہَا بِمَنْزِلَتِہِ مِنَ اللَّہِ تَعَالَی حَتَّی أَثَّرَ الْحَصِیرُ فِی کَفَّہِ مِنْ شِدَّۃِ مَا کَانَ یَعْتَمِدُ عَلَیْہِ فَمَا کَانَتْ تِلْکَ خِطْبَۃً۔ [ضعیف]
(١٤٠١٧) عبدالرحمن بن حنظلہ غسیل اپنی خالہ سکینہ بنت حنظلہ سے نقل فرماتے ہیں جو قباء میں اپنے چچا کے بیٹے کے نکاح میں تھی۔ وہ فوت ہوگیا، کہتی ہیں کہ ابو جعفر محمد بن علی عدت کے اندر میرے پاس آئے، سلام کہا اور پوچھنے لگے : اے بنت حنظلہ ! کیسی صبح کی ؟ میں نے کہا : بہتر اللہ نے اس میں بہتری رکھی۔ کہنے لگے : میری قرابت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت علی (رض) سے ہے اور میرا حق اسلام میں ہے اور عرب میں میرا مقام ہے، میں نے کہا، یعنی سکینہ بنت حنظلہ نے : اے ابوجعفر ! اللہ آپ کو معاف کرے، آپ ایسے آدمی ہیں جن سے لیا جاتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ کی جانب سے میری عدت میں پیغام نکاح تو اس نے کہا کہ میں نے ایسا نہیں کیا، میں نے تو صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی قرابت داری کا تذکرہ کیا ہے، پھر کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام سلمہ بنت ابی امیہ بن مغیرہ مخزومیہ کے پاس آئے، جو ابی سلمہ کی بیوی تھی، جو ان کے چچا کا بیٹا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ کے ہاں ان کے مرتبہ کا تذکرہ کرتے رہے، یہاں تک کہ چٹائی کے نشانات ان کی ہتھیلی پر ظاہر ہوگئے یہ پیغام نکاح تو نہ تھا۔