(۱۴۰۳۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِی بَکْرُ بْنُ مُضَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُکَیْرٍ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَہُ : أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا أَرَادَ أَنْ یَخْطُبَ بِنْتَ أَبِی جَہْلٍ وَکَانَ رَجُلٌ یَخْطُبُہَا فَأَتَی الرَّجُلُ فَقَالَ : تَخْطُبُ ابْنَۃَ أَبِی جَہْلٍ؟ قَالَ : نَعَمْ قَدْ تَرَکْتُہَا فَقَالَ : قَدْ تَرَکْتَہَا وَلاَ حَاجَۃَ لَکَ بِہَا؟ قَالَ : نَعَمْ۔ قَالَ : إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَخْطُبَہَا قَالَ: اخْطُبَہَا رَاشِدًا قَالَ فَخَطَبَہَا ثُمَّ بَدَا لَہُ فَتَرَکَہَا۔ [ضعیف]
(١٤٠٣٧) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغام نکاح دینے کا ارادہ کیا اور ایک شخص نے اس کو پیغام نکاح دیا ہوا تھا، تو وہ شخص آیا، کہنے لگا : آپ ابوجہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دینا چاہتے ہیں تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : ہاں۔ اس نے کہا کہ میں نے چھوڑ دیا ہے تو پھر پوچھا : تو نے چھوڑ دیا، تجھے کوئی حاجت نہیں ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ فرمانے لگے : میں نکاح کا پیغام دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ کہنے لگا کہ اب نکاح کا پیغام دینا درست ہے۔ کہتے ہیں : انھوں نے نکاح کا پیغام دیا، پھر جب اس کے لیے بات واضح ہوگئی تو چھوڑ دیا۔