(۱۴۰۶۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو وَأَبُو نَصْرٍ : مَنْصُورُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُفَسِّرُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَیْنِ
(ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ فَحَدَّثَنِی دَاوُدُ بْنُ الْحُصَیْنِ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : رَدَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- زَیْنَبَ ابْنَتَہُ عَلی أَبِی الْعَاصِ بْنِ الرَّبِیعِ عَلَی النِّکَاحِ الأَوَّلِ بَعْدَ سِتِّ سِنِینَ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَحْمَدَ بْنِ خَالِدٍ وَفِی رِوَایَۃِ یُونُسَ بِالنِّکَاحِ الأَوَّلِ لَمْ یُحْدِثْ شَیْئًا بَعْدَ سِتِّ سِنِینَ۔ وَرَوَاہُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِیثِ سَلَمَۃَ بْنِ الْفَضْلِ وَغَیْرِہِ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ۔ وَہَذَا لأَنَّ بِإِسْلاَمِہَا ثُمَّ بِہِجْرَتِہَا إِلَی الْمَدِینَۃِ وَامْتِنَاعِ أَبِی الْعَاصِ مِنَ الإِسْلاَمِ لَمْ یَتَوَقَّفْ نِکَاحُہَا عَلَی انْقِضَائِ الْعِدَّۃِ حَتَّی نَزَلَتْ آیَۃُ تَحْرِیمِ الْمُسْلِمَاتِ عَلَی الْمُشْرِکِینَ بَعْدَ صُلْحِ الْحُدَیْبِیَۃِ ثُمَّ بَعْدَ نُزُوِلِہَا تَوَقَّفَ نِکَاحُہَا عَلی انْقِضَائِ عِدَّتِہَا فَلَمْ تَلْبَثْ إِلاَّ یَسِیرًا حَتَّی أَخَذَ أَبُو بَصِیرٍ وَغَیْرُہُ أَبَا الْعَاصِ أَسِیرًا وَبَعَثَ بِہِ إِلَی الْمَدِینَۃِ فَأَجَارَتْہُ زَیْنَبُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَی مَکَّۃَ وَرَدَّ مَا کَانَ عِنْدَہُ مِنَ الْوَدَائِعِ وَأَظْہَرَ إِسْلاَمَہُ فَلَمْ یَکُنْ بَیْنَ تَوَقُّفِ نِکَاحِہَا عَلَی انْقِضَائِ الْعِدَّۃِ وَبَیْنَ إِسْلاَمِہِ إِلاَّ الْیَسِیرُ۔ [ضعیف]
(١٤٠٦٨) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیٹی زینب کو ابی العاص کے پہلے نکاح میں ٦ برس کے بعد لوٹا دیا۔ یونس کی روایت میں پہلے نکاح میں ٦ برس کے بعد کوئی نیا کام نہیں ہوا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ زینب کا اسلام اور مدینہ کی طرف آنا، لیکن ابوالعاص کا اسلام سے رک جانا، عدت کے ختم ہونے پر موقوف نہ تھا۔ لیکن جب صلح حدیبیہ کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ مسلمان عورتیں مشرکوں پر حرام ہیں، اس آیت کے نزول کے بعد عدت کے ختم ہونے پر نکاح کو موقوف رکھا گیا، تھوڑی مدت ہی گزری تھی کہ ابو بصیر وغیرہ نے ابوالعاص کو قیدی بنا کر مدینہ روانہ کردیا تو حضرت زینب نے پناہ دے دی۔ پھر انھوں نے مکہ لوٹ کر تمام امانتیں واپس کرنے کے بعد اسلام کا اظہار کردیا تو ان کے نکاح کو عدت کے ختم ہونے اور اسلام لانے پر موقوف نہ رکھا گیا۔