hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14113

.

سنن البيهقي

14113
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۱۰۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَصْبَغِ : عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ یَحْیَی الْحَرَّانِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : إِنَّ ابْنَ عُمَرَ وَاللَّہُ یَغْفِرُ لَہُ وَہِمَ إِنَّمَا کَانَ ہَذَا الْحَیُّ مِنَ الأَنْصَارِ وَہُمْ أَہْلُ وَثَنٍ مَعَ ہَذَا الْحَیِّ مِنْ یَہُودَ وَہُمْ أَہْلُ کِتَابٍ کَانُوا یَرَوْنَ لَہُمْ فَضْلاً عَلَیْہِمْ فَکَانُوا یَقْتَدُونَ بِکَثِیرٍ مِنْ فِعْلِہِمْ وَکَانَ مِنْ أَمْرِ أَہْلِ الْکِتَابِ أَنْ لاَ یَأْتُوا النِّسَائَ إِلاَّ عَلَی حَرْفٍ وَاحِدٍ وَذَلِکَ أَسْتَرُ مَا تَکُونُ الْمَرْأَۃَ وَکَانَ ہَذَا الْحَیُّ مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ أَخَذُوا بِذَلِکَ مِنْ فِعْلِہِمْ وَکَانَ ہَذَا الْحَیُّ مِنْ قُرَیْشٍ یَشْرَحُونَ النِّسَائَ شَرْحًا مُنْکَرًا وَیَتَلَذَّذُونَ مِنْہُنَّ مُقْبِلاَتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِیَاتٍ فَلَمَّا قَدِمَ الْمُہَاجِرُونَ الْمَدِینَۃَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنْہُمُ امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ فَذَہَبَ یَصْنَعُ بِہَا ذَلِکَ فَأَنْکَرَتْہُ عَلَیْہِ وَقَالَتْ : إِنَّمَا کُنَّا نُؤْتَی عَلَی حَرْفٍ فَاصْنَعْ ذَلِکَ وَإِلاَّ فَاجْتَنِبْنِی حَتَّی شَرَی أَمْرُہُمَا فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَنْزَلَ اللَّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی { نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ } مُقْبِلاَتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِیَاتٍ یَعْنِی بِذَلِکَ مَوْضِعَ الْوَلَدِ۔ وَرَوَاہُ أَیْضًا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِیُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ سَمِعَ أَبَانَ بْنَ صَالِحٍ فَذَکَرَہُ بِمَعْنَاہُ وَقَالَ : بَعْدَ أَنْ یَکُونَ فِی الْفَرْجِ۔ [حسن۔ اخرجہ الحاکم ۳۰۶۰]
(١٤١٠٧) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کو وہم ہوگیا کہ وہ انصاری قبیلہ تھا بلکہ وہ یہود کا بت پرست قبیلہ تھا جو اپنے آپ کو دوسروں سے افضل خیال کرتے تھے اور بہت سارے ان کے فعل کی اخترا کرتے تھے اور اہل کتاب صرف ایک طریقے سے عورتوں سے مجامعت کرتے تھے اور پردہ بھی عورت کے لیے زیادہ ہوتا تھا، اس انصاری قبیلہ نے ان کے فعل کو اختیار کیا تھا اور یہ قریشی قبیلہ تھا، جس نے عورتوں کے لیے غیر معروف شرع کو بیان کیا، وہ ان عورتوں سے آگے، پیچھے، چت لیٹ کر لذت حاصل کرتے تھے، جب مہاجر آئے تو اس نے ایک انصاری عورت سے شادی کی تو وہ اپنے طریقے سے مجامعت کرنے لگا تو عورت نے انکار کردیا اور کہنے لگی : ہم صرف ایک ہی طریقہ سے مجامعت کرتے ہیں، وہی اختیار کرو یا مجھ سے اجتناب کرو، یہاں تک کہ حکم واضح ہوجائے۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا : { نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِئْتُمْ } [البقرۃ ٢٢٣] کہ آگے پیچھے سے یا چت لیٹ کر، صرف بچے کے پیدا ہونے کی جگہ آنا ہے۔
(ب) ابان بن صالح نے بھی اس کے ہم معنیٰ ذکر کی ہے کہ شرمگاہ میں ہونا چاہیے۔