(۱۴۱۷۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْکَرِیمِ بْنُ الْہَثِیمِ حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ : لاَ یَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ یَنْکِحَ امْرَأَۃً إِلاَّ نِکَاحَ الإِسْلاَمِ یُمْہِرُہَا وَیَرِثُہَا وَتَرِثُہُ وَلاَ یُقَاضِیہَا عَلَی أَجَلٍ مَعْلُومٍ إِنَّہَا امْرَأَتُہُ فَإِنْ مَاتَ أَحَدُہُمَا لَمْ یَتَوَارَثَا۔[صحیح]
(١٤١٧٥) نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : کسی شخص کے لیے نکاحِ اسلام کے علاوہ کوئی نکاح جائز نہیں ہے، وہ اس کا حق مہر ادا کرتا ہے، مرد و عورت ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں اور ایک وقت معین کا فیصلہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ اس کی بیوی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی فوت ہوجائے تو وہ ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔