(۱۴۱۸۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ : مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ الْمَدَنِیُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلَہُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا فَتَزَوَّجَہَا أَخٌ لَہُ عَنْ غَیْرِ مُؤَامَرَۃٍ مِنْہُ لِیُحِلَّہَا لأَخِیہِ ہَلْ تَحِلَّ لِلأَوَّلِ؟ قَالَ : لاَ إِلاَّ نِکَاحَ رَغْبَۃٍ کُنَّا نَعُدُّ ہَذَا سِفَاحًا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ [صحیح]
(١٤١٨٩) نافع اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر (رض) کے پاس آیا اور ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں تو اس کے بھائی نے بغیر مشورہ کے اس عورت سے شادی کرلی، تاکہ اپنے بھائی کے لیے حلال کر دے۔ کیا وہ پہلے کے لیے حلال ہے ؟ فرمانے لگے : نہیں، مگر نکاح رغبت سے ہو۔ وگرنہ اس نکاح کو ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں زنا شمار کرتے تھے۔