(۱۴۲۱) فَقَدْ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا تَمْتَامٌ یَعْنِی مُحَمَّدَ بْنَ غَالِبٍ حَدَّثَنَا مُوسَی حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : ((نَحْنُ الآخِرُونَ السَّابِقُونَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، بَیْدَ کُلِّ أُمَّۃٍ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا ، وَأُوتِینَا مِنْ بَعْدِہِمْ ، فَہَذَا الْیَوْمُ الَّذِی اخْتَلَفُوا فِیہِ فَہَدَانَا اللَّہُ لَہُ ، فَغَدًا لِلْیَہُودِ ، وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَی))۔ فَسَکَتَ وَقَالَ : ((حَقٌّ عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ فِی کُلِّ سَبْعَۃِ أَیَّامٍ یَوْمًا یَغْسِلُ رَأْسَہُ وَجَسَدَہُ))۔رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُوسَی بْنِ إِسْمَاعِیلَ مُخْتَصَرًا۔ [صحیح۔ اخرجہ البخاری ۲۲۹۸]
(١٤٢١) سیدنا ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم سب امتوں کے آخر میں آئے ہیں اور قیامت کے دن سبقت لے جائیں گے باوجود اس کے کہ ہم سے پہلے ہر ایک کو کتاب دی گئی اور ہم کو ان کے بعد دی گئی، یہی وہ دن ہے جس نے انھوں میں اختلاف کیا اور اللہ نے ہم کو ہدایت دی۔ یہود کے لیے کل (ہفتہ) تھا اور نصاریٰ کے لیے پرسوں (اتوار) تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش ہوگئے اور فرمایا : ہر سات دن میں ایک دفعہ ہر مسلمان پر غسل کرنا فرض ہے کہ وہ اپنے سر اور جسم کو دھوئے۔