(۱۴۱۹۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا سَعِیدُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ : أَنَّ امْرَأَۃً طَلَّقَہَا زَوْجُہَا ثَلاَثًا وَکَانَ مِسْکِینٌ أَعْرَابِیٌّ یَقْعُدُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ فَجَائَ تْہُ امْرَأَۃٌ فَقَالَتْ : ہَلْ لَکَ فِی امْرَأَۃٍ تَنْکِحُہَا فَتَبِیتَ مَعَہَا اللَّیْلَۃَ وَتُصْبِحَ فَتُفَارِقَہَا فَقَالَ : نَعَمْ فَکَانَ ذَلِکَ فَقَالَتْ لَہُ امْرَأَتُہُ : إِنَّکَ إِذَا أَصْبَحْتَ فَإِنَّہُمْ سَیَقُولُونَ لَکَ فَارِقْہَا فَلاَ تَفْعَلْ ذَلِکَ فَإِنِّی مُقِیمَۃٌ لَکَ مَا تَرَی وَاذْہَبْ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا أَصْبَحَتْ أَتَوْہُ وَأَتَوْہَا فَقَالَتْ : کَلِّمُوہُ فَأَنْتُمْ جِئْتُمْ بِہِ فَکَلِّمُوہُ فَأَبَی فَانْطَلَقَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : الْزَمِ امْرَأَتَکَ فَإِنْ رَابُوکَ بِرَیْبٍ فَأْتِنِی وَأَرْسَلَ إِلَی الْمَرْأَۃِ الَّتِی مَشَتْ لِذَلِکَ فَنَکَّلَ بِہَا ثُمَّ کَانَ یَغْدُو عَلَی عُمَرَ وَیَرُوحُ فِی حُلَّۃٍ فَیَقُولُ : الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی کَسَاکَ یَا ذَا الرُّقْعَتَیْنِ حُلَّۃً تَغْدُو فِیہَا وَتَرُوحُ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَسَمِعْتُ ہَذَا الْحَدِیثَ مُسْنَدًا إِسنادًا مُوتَصِلاً عَنِ ابْنِ سِیرِینَ یُوصِلُہُ عَنْ عُمَرَ بِمِثْلِ ہَذَا الْمَعْنَی۔ [ضعیف]
(١٤١٩٧) ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، وہ مسکین دیہاتی تھا، مسجد کے دروازے پر بیٹھا رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی : تو نے فلاں عورت سے شادی کے بعد ایک رات گزار کر اس کو جدا کردیا ؟ اس نے کہا : ہاں۔ وہ اسی طرح تھا کہ اس کی بیوی نے کہہ دیا : جب تو صبح کرے تو وہ کہہ دیں کہ تو اس کو جدا کر تو ایسا نہ کرنا۔ میں تیرے پاس ہی رہوں گی، تیرا کیا خیال ہے ؟ اور حضرت عمر (رض) کے پاس جا۔ جب عورت نے صبح کی تو اس کے ورثا مسکین اعرابی کے پاس آئے تو وہ مسکین عورت کے پاس آیا۔ اس عورت نے کہا : تم اس مسکین سے بات کرو۔ تم مجھے اس کے پاس لے کر آئے تھے۔ انھوں نے بات کی، لیکن مسکین نے انکار کردیا اور حضرت عمر (رض) کے پاس چلا گیا تو انھوں نے فرمایا : اپنی بیوی کو لازم پکڑو، اگر کوئی شک ہو تو میرے پاس آجانا، پھر اس عورت کے پاس گیا جو اس کے لیے لائی گئی تھی۔ اس کو عبرتناک سزا دی۔ پھر وہ مسکین صبح وشام حلہ پہن کر حضرت عمر (رض) کے دربار میں آیا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ تمام تعریفیں اس ذات کی ہیں جس نے اے چیتھڑوں والے تجھے حلہ پہنایا۔ جس میں تو صبح وشام کرتا ہے۔