(۱۴۲۶۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ حَدَّثَنَا أَبُوبَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْکَرِیمِ حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ
(ح) قَالَ وَأَخْبَرَنِی أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنِی الْہَیْثَمُ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ الدَّوْرَقِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : کَانَ زَوْجُ بَرِیرَۃَ عَبْدًا یُقَالُ لَہُ مُغِیثٌ کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلَیْہِ یَطُوفُ خَلْفَہَا یَبْکِی وَدُمُوعُہُ تَسِیلُ عَلَی لِحْیَتِہِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- لِلْعَبَّاسِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَلاَ تَعْجَبَ مِنْ حُبِّ مُغِیثٍ بَرِیرَۃَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِیرَۃَ مُغِیثًا ۔ فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ -ﷺ- : لَوْ رَاجَعْتِیہِ فَإِنَّہُ أَبُو وَلَدِکِ ۔ قَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ تَأْمُرُنِی قَالَ : لاَ إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ ۔ قَالَتْ : فَلاَ حَاجَۃَ لِی فِیہِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤٢٦٧) عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا، جس کو مغیث کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ وہ بریرہ کے پیچھے روتا پھر رہا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر گر رہے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عباس (رض) سے فرمایا : کیا مغیث کی محبت جو بریرہ کے ساتھ ہے اور بریرہ کا مغیث سے بغض اس سے آپ تعجب کرتے ہیں۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاؤ تو یہ آپ کے بچوں کا باپ ہے۔ کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں صرف سفارش کررہا ہوں، کہتی ہیں۔ پھر مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔