(۱۴۲۷۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّائُ أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ أَبِیہِ عَنِ الْفُقَہَائِ الَّذِینَ یُنْتَہَی إِلَی قَوْلِہِمْ مِنْ أَہْلِ الْمَدِینَۃِ کَانُوا یَقُولُونَ : إِذَا کَانَتِ الأَمَۃُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَعَتَقَا جَمِیعًا فَلاَ خِیَارَ لَہَا وَإِنْ عَتَقَتْ قَبْلَہُ وَسَکَتَتْ حَتَّی عَتَقَ زَوْجُہَا فَلاَ خِیَارَ لَہَا أَیْضًا۔ [ضعیف]
(١٤٢٧٣) اہل مدینہ کے فقہاء جن کا قول معتبر ہے فرماتے ہیں : جب لونڈی غلام کے نکاح میں ہو اور دونوں کو اکٹھے آزادی ملے تو عورت کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگر لونڈی کو پہلے آزادی ملی اور وہ خاموش رہی اور اس کے خاوند کو بھی آزادی مل گئی تب بھی اس کو کوئی اختیار نہیں ہے۔