(۱۴۲۷۵) وَقَوْلُہُ کَانَ زَوْجُہَا حُرًّا مِنْ قَوْلِ الأَسْوَدِ لاَ مِنْ قَوْلِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِدَلِیلِ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ وَالْحَجَبِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا اشْتَرَتْ بَرِیرَۃَ وَاشْتَرَطَ أَہْلُہَا وَلاَئَ ہَا فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی اشْتَرَیْتُ بَرِیرَۃَ لأُعْتِقَہَا وَإِنَّ أَہْلَہَا یَشْتَرِطُونَ وَلاَئَ ہَا فَقَالَ : أَعْتِقِیہَا فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ أَوْ لِمَنْ أَعْطَی الثَّمَنَ ۔ قَالَ : فَاشْتَرَتْہَا فَأَعْتَقَتْہَا قَالَ وَخُیِّرَتْ فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَقَالَتْ : لَوْ أُعْطِیتُ کَذَا وَکَذَا مَا کُنْتُ مَعَہُ۔ قَالَ الأَسْوَدُ وَکَانَ زَوْجُہَا حُرًّا۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤٢٧٥) اسود حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے بریرہ کو خریدا تو اس کے گھر والوں نے ولاء کی شرط رکھی۔ حضرت عائشہ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : میں بریرہ کو خرید کر آزاد کرنا چاہتی ہوں اور اس کے مالک ولاء کی شرط رکھتے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آزاد کر؛ کیونکہ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہوتی ہے یا قیمت کے ادا کرنے والے کے لیے ہوتی ہے، فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے خرید کر آزاد کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ بریرہ کو اختیار دیا گیا تو انھوں نے اپنے نفس کو اختیار کرلیا۔ بریرہ کہنے لگی : اگر مجھے اتنا اتنا بھی دیا جائے ۔ تب بھی میں اس کے ساتھ نہ رہوں گی۔ اسود کہتے ہیں : اس کا خاوند آزاد تھا۔