hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14307

.

سنن البيهقي

14307
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۳۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ عِکْرِمَۃَ : أَنَّ امْرَأَۃً دَخَلَتْ عَلَی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَعَلَیْہَا خِمَارٌ أَخْضَرُ فَشَکَتْ إِلَیْہَا زَوْجَہَا وَأَرَتْہَا ضَرْبًا بِجِلْدِہَا فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَتْ لَہُ ذَلِکَ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَقَالَتْ : مَا تَلْقَی نِسَائُ الْمُسْلِمِینَ مِنْ أَزْوَاجِہِنَّ وَقَالَتْ لِلَّذِی بِجِلْدِہَا أَشَدُّ خُضْرَۃً مِنْ خِمَارِہَا قَالَ عِکْرِمَۃُ : وَالنِّسَائُ یَنْصُرُ بَعْضُہُنَّ بَعْضًا وَجَائَ الرَّجُلُ فَقَالَتْ : مَا الَّذِی عِنْدَہُ بِأَغْنَی عَنِّی مِنْ ہَذَا وَقَالَتْ بِطَرَفِ ثَوْبِہَا فَقَالَ الرَّجُلُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ إِنِّی لأَنْفُضُہَا نَفْضَ الأَدِیمِ وَلَکِنَّہَا نَاشِزٌ تُرِیدُ رِفَاعَۃَ وَکَانَ رِفَاعَۃُ زَوْجَہَا قَدْ طَلَّقَہَا قَبْلَ ذَلِکَ فَقَالَ : إِنَّہُ إِنْ کَانَ کَمَا تَقُولِینَ لَمْ تَحِلِّی لَہُ حَتَّی یَذُوقَ مِنْ عُسَیْلَتِکِ وَتَذُوقِی مِنْ عُسَیْلَتِہِ ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۸۲۵]
(١٤٣٠١) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئی، اس پر سبز اوڑھنی تھی۔ اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی اور اپنی جلد پر مار کا نشان بھی دکھایا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو حضرت عائشہ (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا اور کہنے لگی کہ مسلمان عورتوں کو ان کے خاوندوں سے اتنی تکلیف آتی ہے اور فرمانے لگیں کہ اس کی جلد پر اس کی اوڑھنی سے بھی زیادہ سبز داغ تھے۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ عورتیں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں اور مرد بھی آگیا تو عورت نے کہہ دیا جو اس کے پاس ہے وہ مجھ سے بے پروا ہے (یعنی میری حاجت پوری نہیں کرتا) اور اپنے کپڑے کے سرے کو پکڑ کر کہنے لگی : اس طرح ہے اور مرد کہنے لگا : اللہ کی قسم ! میں اس کو اس طرح چھانٹتا ہوں جیسے چمڑے کو چھانٹا جاتا ہے، لیکن یہ نافرمانی کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ رفاعہ کا ارادہ رکھتی ہے جس نے پہلے اس کو طلاق دے دی تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر بات ایسے ہے تو پھر تیرے لیے جائز نہیں یہاں تک کہ تو اس کا مزہ چکھ لے اور وہ تیرا۔