(۱۴۳۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْہَالٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوبَ وَحَبِیبٍ وَہِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ أَبِی الْعَجْفَائِ السُّلَمِیِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَقُولُ : إِیَّاکُمْ وَالْمُغَالاَۃِ فِی مُہُورِ النِّسَائِ فَإِنَّہَا لَوْ کَانَتْ تَقْوَی عِنْدَ اللَّہِ أَوْ مَکْرُمَۃً عِنْدَ النَّاسِ لَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَوْلاَکُمْ بِہَا مَا نَکَحَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- شَیْئًا مِنْ نِسَائِہِ وَلاَ أَنْکَحَ وَاحِدَۃً مِنْ بَنَاتِہِ بِأَکْثَرِ مِنِ اثْنَیْ عَشَرَۃَ أُوقِیَّۃً وَہِیَ أَرْبَعُمِائَۃِ دِرْہَمٍ وَثَمَانُونَ دِرْہَمًا وَإِنَّ أَحَدَہُمْ لَیُغَالِی بِمَہْرِ امْرَأَتِہِ حَتَّی یَبْقَی عَدَاوَۃً فِی نَفْسِہِ فَیَقُولُ : لَقَدْ کُلِّفْتُ لَکِ عَلَقَ الْقِرْبَۃِ۔
وَرَوَاہُ أَیْضًا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ وَفِی رِوَایَۃِ بَعْضِہِمْ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ اثْنَیْ عَشَرَ أُوقِیَّۃً وَنِصْفٍ فَإِنْ کَانَ مَحْفُوظًا وَافَقَ رِوَایَۃَ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا۔ [حسن]
(١٤٣٤٧) حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ تم عورتوں کو زیادہ حق مہر دینے سے بچو۔ اگر یہ اللہ کے ہاں تقویٰ اور لوگوں کے نزدیک عزت والی بات ہوتی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے زیادہ لائق تھے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اور اپنی بیٹیوں کے نکاح کیے اور حق مہر صرف ١٢ اوقیہ تھا اور یہ ٤٨٠ درہم بنتے ہیں۔ ان میں سے کوئی اپنی بیوی کا حق مہر اتنا زیادہ کردیتا ہے کہ وہ اپنے نفس کا بھی دشمن بن جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے تیری وجہ سے لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرح تکلیف پہنچایا گیا ہوں۔
(ب) ابن سیرین نے ١٢ اوقیہ اور نصف بیان کیا ہے، جو ابوسلمہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں اس کی موافقت میں۔