(۱۴۳۵۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَکْرٍ الْقَاضِی قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَۃَ الدِّمَشْقِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : لَقَدْ خُطِبَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ لِی مَوْلاَۃٌ لِی : ہَلْ عَلِمْتَ أَنَّ فَاطِمَۃَ تُخْطَبُ؟ قُلْتُ : لاَ أَوْ نَعَمْ قَالَتْ : فَاخْطُبْہَا إِلَیْہِ قَالَ قُلْتُ : وَہَلْ عِنْدِی شَیْء ٌ أَخْطُبُہَا عَلَیْہِ قَالَ فَوَاللَّہِ مَا زَالَتْ تُرَجِّینِی حَتَّی دَخَلْتُ عَلَیْہِ وَکُنَّا نُجِلُّہُ وَنُعَظِّمُہُ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ أُلْجِمْتُ حَتَّی مَا اسْتَطَعْتُ الْکَلاَمَ فَقَالَ : ہَلْ لَکَ مِنْ حَاجَۃٍ ۔ فَسَکَتُّ فَقَالَہَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ قَالَ : لَعَلَّکَ جِئْتَ تُخْطُبُ فَاطِمَۃَ ۔ قُلْتُ : نَعَمْ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : ہَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَیْئٍ تَسْتَحِلُّہَا بِہِ ۔ قَالَ قُلْتُ : لاَ وَاللَّہِ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : فَمَا فَعَلَتِ الدِّرْعُ الَّتِی کُنْتُ سَلَّحْتُکَہَا ۔ قَالَ عَلِیٌّ : وَاللَّہِ إِنَّہَا لَدِرْعٌ حُطَمِیَّۃٌ مَا ثَمَنُہَا إِلاَّ أَرْبَعُمِائَۃِ دِرْہَمٍ قَالَ : اذْہَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُکَہَا وَابْعَثْ بِہَا إِلَیْہَا فَاسْتَحِلَّہَا بِہِ ۔
کَذَا فِی کِتَابِی أَرْبَعُمِائَۃِ دِرْہَمٍ۔ وَرَوَاہُ یُونُسُ بْنُ بُکَیْرٍ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فَقَالَ : أَرْبَعَۃُ دَرَاہِمَ۔
(١٤٣٥١) مجاہد حضرت علی (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ کو نکاح کا پیغام دیا گیا تو میری ایک لونڈی نے مجھ سے کہا : کیا آپ جانتے ہیں کہ فاطمہ کو پیغام نکاح دیا گیا ؟ میں نے نعم یا لا کہا تو وہ کہنے لگی : آپ بھی پیغام نکاح دیں، کہتے ہیں : میں نے کہا : میرے پاس کیا ہے کہ میں دے کر نکاح کروں ؟ لیکن وہ مجھے ترغیب دیتی رہی یہاں تک کہ میں آپ کے پاس چلا گیا، اور میں آپ کی تعظیم بہت زیادہ کرتا تھا جس کی وجہ سے آپ کے سامنے بیٹھ کر کلام نہ کرسکا، آپ نے پوچھا : کیا تجھے کوئی کام ہے ؟ میں خاموش رہا یہاں تک کہ یہ بات انھوں نے تین مرتبہ کہی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاید آپ فاطمہ کو نکاح کا پیغام دینے آئے ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے پوچھا : تیرے پاس کیا چیز ہے جس کے ذریعے تو اس کو اپنے لیے حلال کرسکے ؟ کہتے ہیں : میں نے کہا : کچھ بھی نہیں، اے اللہ کے رسول ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : جو میں نے تجھے اسلحہ کے طور پر زرع دی تھی وہ کدھر ہے ؟ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : اس زرع کی قیمت صرف چار سو درہم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا ہے لیکن وہ ذرع ان کو دے کر اپنے لیے حلال کرلو۔
(ب) اسی طرح میری کتاب میں ٤٠٠ سو درہم ہے اور ابن اسحاق کی روایت میں ٤ درہم ہے۔