(۱۴۳۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْہَرِیُّ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا بْنُ عَدِیٍّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ یَزِیدَ بْنِ کَیْسَانَ عَنْ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- أَوْ قَالَ فَتًی فَقَالَ : إِنِّی تَزَوَّجْتُ امْرَأَۃً فَقَالَ : ہَلْ نَظَرْتَ إِلَیْہَا فَإِنَّ فِی عَیْنِ الأَنْصَارِ شَیْئًا ۔ قَالَ : قَدْ نَظَرْتُ إِلَیْہَا۔
قَالَ : عَلَی کَمْ تَزَوَّجْتَہَا ۔ فَذَکَرَ شَیْئًا قَالَ : فَکَأَنَّکُمْ تَنْحِتُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ مِنْ عُرْضِ ہَذِہِ الْجِبَالِ مَا عِنْدَنَا الْیَوْمَ شَیْء ٌ نُعْطِیکَہُ وَلَکِنْ سَأَبْعَثُکَ فِی وَجْہٍ تُصِیبُ فِیہِ ۔ فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَی بَنِی عَبْسٍ وَبَعَثَ الرَّجُلَ فِیہِمْ فَأَتَاہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَعْیَتْنِی نَاقَتَی أَنْ تَنْبَعِثَ قَالَ فَنَاوَلَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَدَہُ کَالْمُعْتَمِدِ عَلَیْہِ لِلْقِیَامِ فَأَتَاہَا فَضَرَبَہَا بِرِجْلِہِ۔ قَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَقَدْ رَأَیْتُہَا تَسْبِقُ الْقَائِدَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ مَعِینٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِیَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۴۲۴]
(١٤٣٥٤) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص یا نوجوان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے اس کی طرف دیکھا ؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔ اس نے کہا : میں نے دیکھا ہے، فرمایا : تو نے کتنا حق مہر ادا کیا ہے ؟ اس نے کچھ ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گویا کہ تم سونے، چاندی کو ان پہاڑوں سے کرید لیتے ہو۔ لیکن آج ہمارے پاس جو کچھ ہے آپ کو دیں گے لیکن میں تجھے اس طرف روانہ کرتا ہوں جہاں سے آپ کچھ حاصل کرلیں گے اور آپ نے بنو عبس کی طرف لشکر میں اس کو روانہ کردیا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : میری اونٹنی تھک گئی ہے کہ مجھے اٹھائے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ہاتھ کا سہارا لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو پاؤں سے مارا، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ وہ باقی سواریوں سے آگے بڑھ گئی تھی۔