(۱۴۳۷۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ أَخْبَرَنِی عَاصِمُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِیعَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ امْرَأَۃً مِنْ فَزَارَۃَ جِیئَ بِہَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- قَدْ تَزَوَّجَتْ عَلَی نَعْلَیْنِ فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : أَرَضِیتِ مِنْ نَفْسِکِ وَمَالِکِ بِنَعْلَیْنِ ۔ قَالَتْ نَعَمْ فَأَجَازَہُ۔
عَاصِمُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَکَلَّمُوا فِیہِ وَمَعَ ضَعْفِہِ قَدْ رَوَی عَنْہُ الأَئِمَّۃُ۔
[ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(١٤٣٧٤) عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ بنوفزارہ کی ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہنے لگی : اس نے دو جوتوں کے عوض شادی کی ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو اپنے نفس اور مال سے دو جوتے عوض پر راضی ہے ؟ اس نے کہا : ہاں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بھی جائز رکھا۔