(۱۴۴۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ: وَإِنَّمَا مَنَعَنِی مِنْ إِیجَابِ الْغُسْلِ مِنْ غَسْلِ الْمَیِّتِ أَنَّ فِی إِسْنَادِہِ رَجُلاً لَمْ أَقَعْ مِنْ مَعْرِفَۃِ ثَبَتِ حَدِیثِہِ إِلَی یَوْمِی ہَذَا عَلَی مَا یُقْنِعُنِی ، فَإِنْ وَجَدْتُ مَنْ یُقْنِعُنِی أَوْجَبْتُہُ ، وَأَوْجَبْتُ الْوُضُوئَ مِنْ مَسِّ الْمَیِّتِ مُفْضِیًا إِلَیْہِ ، فَإِنَّہُمَا فِی حَدِیثٍ وَاحِدٍ۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْمُطَرِّزِ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی یَقُولُ لاَ أَعْلَمُ فِیمَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَلْیَغْتَسِلْ حَدِیثًا ثَابِتًا وَلَوْ ثَبَتَ لَزِمَنَا اسْتِعْمَالُہُ۔
قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ ضَعِیفٍ عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ مَرْفُوعًا۔
[صحیح۔ اخرجہ المؤل فی المعرفہ ۱؍۳۵۷]
(١٤٤١) (الف) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مجھے میت کو غسل دینے کے بعد غسل کے واجب ہونے والی حدیث پر عمل کو اس بات نے روکا جو اس کی سند میں راوی ہے جس کی آج تک معرفت حاصل نہیں ہو سکیجو مجھے یقین دلاتی۔ اگر مجھے قابل اعتماد کوئی حدیث مل جاتی تو میں اس کو فرض قرار دے دوں اور جو میت کو چھوتا اس پر وضو قرار دیتا۔
(ب) أبو بکر مطرز کہتے ہیں : میں نے محمد بن یحییٰ سے سنا کہ میں نہیں جانتا اس حدیث کے متعلق جو میت کو غسل دے کر غسل کرنے کے متعلق ہے اور اگر ثابت ہوجائے تو اس پر لاز م قرار دیں گے۔ (ج) امام احمد فرماتے ہیں : ایک ضعیف سند میں سیدنا ابو سلمہ (رض) سے مرفوع روایت منقول ہے۔