(۱۴۴۱۲) وَرَوَاہُ یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ وَہُوَ أَحَدُ حُفَّاظِ الْحَدِیثِ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَہْدِیٍّ وَغَیْرِہِ بِإِسْنَادٍ آخَرَ صَحِیحٍ کَذَلِکَ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحُسَیْنِ عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ قَالاَ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ قَالَ : أُتِیَ عَبْدُ اللَّہِ فِی امْرَأَۃٍ تُوُفِّیَ عَنْہَا زَوْجُہَا وَلَمْ یَفْرِضْ لَہَا صَدَاقًا وَلَمْ یَدْخُلْ بِہَا فَتَرَدَّدُوا إِلَیْہِ وَلَمْ یَزَالُوا بِہِ حَتَّی قَالَ : إِنِّی سَأَقُولُ بِرَأْیِی لَہَا صَدَاقُ نِسَائِہَا لاَ وَکْسَ وَلاَ شَطَطَ وَعَلَیْہَا الْعِدَّۃُ وَلَہَا الْمِیرَاثُ فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَشَہِدَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَضَی فِی بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ الأَشْجَعِیَّۃِ بِمِثْلِ مَا قَضَیْتَ فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤٤١٢) علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ کے پاس ایسی عورت کا فیصلہ آیا کہ شادی کے بعد خاوند دخول بھی نہ کرسکا، حق مہر بھی مقرر نہ ہوا اور وہ فوت ہوگیا تو حضرت عبداللہ کو تردد ہوا اور وہ ہمیشہ اس طرح ہی رہے، آخر انھوں نے اپنی رائے سے بات کی کہ مکمل حق مہر ملے گا، عدت گزارے گی اور اس کو میراث بھی ملے گی تو معقل بن سنان نے کھڑے ہو کر کہا کہ اس کی موجودگی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بروع بنت واثق اشجعیہ کے بارے میں اس طرح فیصلہ فرمایا، جیسے آپ نے فیصلہ کیا ہے تو عبداللہ بہت زیادہ خوش ہوئے۔