(۱۴۴۳۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی رِجَالٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْہُمْ یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ واللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ ابْنَ شِہَابٍ أَخْبَرَہُمْ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہَا قَالَتْ : جَائَ تْ بَرِیرَۃُ إِلَیَّ فَقَالَتْ : یَا عَائِشَۃُ إِنِّی کَاتَبْتُ أَہْلِی عَلَی سَبْعَۃِ أَوَاقٍ فِی کُلِّ عَامٍ أُوقِیَّۃٌ فَأَعِینِینِی وَلَمْ تَکُنْ قَضَتْ مِنْ کِتَابَتِہَا شَیْئًا فَقَالَتْ لَہَا عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا وَنَفِسَتْ فِیہَا : ارْجِعِی إِلَی أَہْلِکِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أُعْطِیَہُمْ ذَلِکَ جَمِیعًا وَیَکُونُ وَلاَؤُکِ لِی فَعَلْتُ فَذَہَبَتْ بَرِیرَۃُ إِلَی أَہْلِہَا فَعَرَضَتْ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ فَأَبَوْا وَقَالُوا : إِنْ شَائَ تْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَیْکِ فَلْتَفْعَلْ وَیَکُونُ وَلاَؤُکِ لَنَا۔ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ عَائِشَۃُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : لاَ یَمْنَعُکِ ذَلِکَ مِنْہَا ابْتَاعِی وَأَعْتِقِی فَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ ۔ فَفَعَلَتْ وَقَامَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فِی النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّہَ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ نَاسٍ یَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَیْسَتْ فِی کِتَابِ اللَّہِ تَعَالَی مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَیْسَ فِی کِتَابِ اللَّہِ فَہْوَ بَاطِلٌ وَإِنْ کَانَ مِائَۃَ شَرْطٍ قَضَائُ اللَّہِ أَحَقُّ وَشَرْطُ اللَّہِ أَوْثَقُ ، وَإِنَّمَا الْوَلاَئُ لِمَنْ أَعْتَقَ
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ عَنِ اللَّیْثِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ عَنِ ابْنِ وَہْبٍ عَنْ یُونُسَ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَقَدْ یُرْوَی عَنْہُ : الْمُسْلِمُونَ عَلَی شُرُوطِہِمْ إِلاَّ شَرْطًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلاَلاً ۔ وَمُفَسَّرُ حَدِیثِہِ یَدُلُّ عَلَی جُمْلَتِہِ۔ [حسن لغیرہ]
(١٤٤٣٢) عروہ بن زبیر حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس بریرہ آئی اور کہنے لگی : اے عائشہ ! میں نے اپنے گھر والوں سے ساٹھ اوقیوں پر مکاتبت کی ہے اور ایک اوقیہ سال میں ادا کرنا ہے، آپ میری مدد کریں اور کتابت کی رقم باقی نہ رہے تو حضرت عائشہ (رض) نے کہا، وہ اس میں رغبت بھی رکھتی تھی کہ اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ اگر وہ پسند کریں تو میں ساری رقم اکٹھی ادا کردیتی ہوں اور ولاء میری ہوگی تو بریرہ نے جا کر یہ بات اپنے گھر والوں پر پیش کی تو انھوں نے انکار کردیا اور کہنے لگے : اگر وہ تیرے اوپر احسان کرنا چاہتی ہیں تو کریں لیکن ولاء ہماری ہوگی تو حضرت عائشہ (رض) نے اس کا تذکرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے فرمایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کوئی چیز نہ روکے خرید کر آزاد کرو۔ ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے تو انھوں نے ایسا کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد بیان کی پھر فرمایا : لوگوں کو کیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں اور جس نے ایسی شرط لگائی جو کتاب اللہ میں نہیں وہ باطل ہے اگرچہ وہ سو شرطیں ہی کیوں نہ ہو، اللہ کی قضا کو پورا کرنا زیادہ درست ہے اور اللہ کی شرط زیادہ قوی ہے اور ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔
(ب) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مسلمان اپنی شرطوں پر ہیں مگر وہ شرط جو حرام کو حلال یا حلال کو حرام کر دے۔