(۱۴۴۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَہْدِیٍّ الْقُشَیْرِیُّ لَفْظًا قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ : أَنَّ جُبَیْرَ بْنَ مُطْعِمٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِی نَصْرٍ فَسَمَّی لَہَا صَدَاقًا ثُمَّ طَلَّقَہَا مِنْ قَبْلِ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا فَقَرَأَ ہَذِہِ الآیَۃَ { إِلاَّ أَنْ یَعْفُونَ أَوْ یَعْفُوَ الَّذِی بِیَدِہِ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ } قَالَ : أَنَا أَحَقُّ بِالْعَفْوِ مِنْہَا فَسَلَّمَ إِلَیْہَا صَدَاقَہَا۔ [ضعیف]
(١٤٤٤٨) حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ جبیر بن مطعم نے بنو نصر کی ایک عورت سے شادی کی، حق مہر مقرر کردیا لیکن دخول سے پہلے ہی طلاق دے دی تو اس آیت کی تلاوت کی : { اِلَّآ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ } [البقرۃ ٢٣٧] ” مگر یہ کہ وہ عورتیں معاف کردیں یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ “ فرماتے ہیں کہ عورت سے بڑھ کر میں معاف کرنے کا حق رکھتا ہوں، تو اس کا حق مہر اس کے سپرد کردیا۔