(۱۴۵۰) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ: أَنَّ مِنَ السُّنَّۃِ أَنْ یَغْتَسِلَ مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا ، وَیَتَوَضَّأَ مَنْ نَزَلَ فِی حُفْرَتِہِ حِینَ یُدْفَنُ ، وَلاَ وُضُوئَ عَلَی أَحَدٍ فِی غَیْرِ ذَلِکَ مِمَّنْ صَلَّی عَلَیْہِ وَلاَ مِمَّنْ حَمَلَ جِنَازَتَہُ ، وَلاَ مِمَّنْ مَشَی مَعَہَا۔ وَقَدْ مَضَی عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ أَنَّہُ قَالَ: لَوْ عَلِمْتُ أَنَّہُ نَجِسٌ لَمْ أَمَسَّہُ۔
وَرُوِیَ فِی ذَلِکَ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ مَرْفُوعًا۔ [صحیح]
(١٤٥٠) سید بن مسیب (رض) فرماتے ہیں : میت کو غسل دے کر غسل کرنا سنت ہے اور قبر میں اتارتے ہوئے باوضو ہونا بھی سنت ہے یہاں تک کہ دفن کردیا جائے۔ اس کے علاوہ کسی پر بھی وضو نہیں ہے جو اس کی نماز جنازہ پڑھے اور نہ اس پر جو اس کے جنازے کو اٹھائے اور نہ اس پر جو اس کے ساتھ چلے۔ ابن مسیب کا قول گزر چکا ہے کہ اگر مجھے معلوم ہو یہ نجس ہے میں اس کو کبھی نہ چھوؤں (یعنی ان کے نزدیک میت ناپاک نہیں ہے) ۔