hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14492

.

سنن البيهقي

14492
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۴۸۶) وَرَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ : تَزَوَّجَ الْحَارِثُ بْنُ الْحَکَمِ امْرَأَۃً فَقَالَ عِنْدَہَا فَرَآہَا خَضْرَائَ فَطَلَّقَہَا وَلَمْ یَمَسَّہَا۔ فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَہُ فَقَالَ زَیْدٌ : لَہَا الصَّدَاقُ کَامِلاً قَالَ : إِنَّہُ مِمَّنْ لاَ یُتَّہَمُ فَقَالَ : أَرَأَیْتَ یَا مَرْوَانُ لَوْ کَانَتْ حُبْلَی أَکُنْتَ مُقِیمًا عَلَیْہَا الْحَدَّ قَالَ : لاَ۔ قَالَ: فَلاَ۔ أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ الأَرْدَسْتَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِیُّ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ الْجَوْہَرِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ۔ وَرَوَاہُ بُکَیْرُ بْنُ الأَشَجِّ عَنْ سُلَیْمَانَ وَذَکَرَ فِی الْقِصَّۃِ أَنَّہُ قَالَ : لَمْ أَطَأْہَا وَقَالَتِ الْمَرْأَۃُ : قَدْ وَطِئَنِی ثُمَّ قَالَ فِی آخِرِہَا فَکَذَلِکَ تُصَدَّقُ الْمَرْأَۃُ فِی مِثْلِ ہَذَا، ظَاہِرُ مَا رُوِّینَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُمَا جَعَلاَ الْخَلْوَۃَ کَالْقَبْضِ فِی الْبُیُوعِ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَرُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ : مَا ذَنْبُہُنَّ إِنْ جَائَ الْعَجْزُ مِنْ قِبَلِکُمْ وَذَلِکَ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ یَقْضِی بِالْمَہْرِ وَإِنْ لَمْ تَدَّعِی الْمَسِیسَ۔ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَأَمَّا زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَظَاہِرُ الرِّوَایَۃِ عَنْہُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ لاَ یُوجِبُہُ بِنَفْسِ الْخَلْوَۃِ لَکِنْ یَجْعَلُ الْقَوْلَ قَوْلَہَا فِی الإِصَابَۃِ۔ [صحیح]
(١٤٤٨٦) حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حارث بن حکم نے ایک عورت سے نکاح کیا تو حارث نے کچھ نقص دیکھ کر بغیر چھوئے طلاق دے دی تو مروان نے زید بن ثابت سے پوچھنے کے لیے کسی کو روانہ کیا تو زید نے کہا : اس کے لیے مکمل حق مہر ہے، وہ کہنے لگے : اس پر کسی قسم کی تہمت نہیں لگائی گئی تو زید (رض) فرمانے لگے : اگرچہ وہ حاملہ ہو تو کیا پھر آپ اس پر حد قائم کریں گے ؟ تو مروان نے کہا : نہیں، تو زید نے کہا : پھر نہیں۔
(ب) سلیمان نے ایسا قصہ زکر کیا کہ مرد نے کہہ دیا : میں نے مجامعت نہیں کی جبکہ عورت کہتی ہے کہ اس نے وطی کی ہے اس کے آخر میں ہے کہ عورت کو مہر مثل دیا جائے گا۔
(ج) حضرت عمر اور علی (رض) فرماتے ہیں کہ تنہائی میں عورت کو لے جانا یہ ویسے ہے جیسے بیوع میں قبضہ کرنا ہوتا ہے۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ ان عورتوں کا کیا گناہ، جب وہ عاجز آجائے تو اس لیے مہر کا فیصلہ کیا جائے گا اگرچہ مجامعت کا دعویٰ نہ بھی کرے۔
شیخ (رح) فرماتے ہیں : خالی خلوت سے حق مہر واجب نہ ہوگا لیکن مجامعت کے بارے میں عورت کی بات معتبر ہے۔