hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 14498

.

سنن البيهقي

14498
Sunan Al Bayhaqi
(۱۴۴۹۲) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ الْبَیْہَقِیُّ صَاحِبُ الْمَدْرَسَۃِ بِنَیْسَابُورَ أَخْبَرَنَا أَبُو حَفْصٍ : عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقِرْمِیسِینِیُّ بِہَا حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ زِیَادٍ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدٍ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا سَلَمَۃُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی قَیْسٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَی عَنْ سُوَیْدِ بْنِ غَفَلَۃَ قَالَ : کَانَتِ الْخَثْعَمِیَّۃُ تَحْتَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَلَمَّا أَنْ قُتِلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ بُویِعَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ دَخَلَ عَلَیْہَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ فَقَالَتْ لَہُ : لِتَہْنِکَ الْخِلاَفَۃُ۔ فَقَالَ الْحَسَنُ : أَظْہَرْتِ الشَّمَاتَۃَ بِقَتْلِ عَلِیٍّ أَنْتِ طَالِقٌ ثَلاَثًا فَتَلَفَّفَتْ فِی ثَوْبِہَا وَقَالَتْ : وَاللَّہِ مَا أَرَدْتُ ہَذَا فَمَکَثَتْ حَتَّی انْقَضَتْ عِدَّتُہَا وَتَحَوَّلَتْ فَبَعَثَ إِلَیْہَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ بِبَقِیَّۃٍ مِنْ صَدَاقِہَا وَبِمُتْعَۃٍ عِشْرِینَ أَلْفَ دِرْہَمٍ فَلَمَّا جَائَ ہَا الرَّسُولُ وَرَأَتِ الْمَالَ قَالَتْ : مَتَاعٌ قَلِیلٌ مِنْ حَبِیبٍ مَفَارِقٍ۔ فَأَخْبَرَ الرَّسُولُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَبَکَی وَقَالَ : لَوْلاَ أَنِّی سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنْ جَدِّی النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا لَمْ تَحِلَّ لَہُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ ۔ لَرَاجَعْتُہَا۔ [ضعیف]
(١٤٤٩٢) سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ خثعمیہ حضرت حسن بن علی کے نکاح میں تھی، جب حضرت علی (رض) کو شہید کیا گیا اور حسن کی بیعت کی گئی تو حضرت حسن بن علی اس کے پاس آئے تو اس نے کہا : آپ کو خلافت مبارک ہو۔ حضرت حسن کہنے لگے : تو نے حضرت علی (رض) کے قتل کی خوشی ظاہر کی ہے، تجھے تین طلاقیں ہیں۔ اس نے کپڑے میں منہ چھپالیا اور کہنے لگی : میرا یہ ارادہ نہ تھا، وہ ٹھہری رہے، جب عدت ختم ہوگئی تو چلی گئی، حضرت حسن نے اس کا باقی ماندہ حق مہر اور فائدہ کے لیے ٢٠ ہزار درہم دیے، جب آپ کا قاصد اور اس نے مال دیکھا تو کہنے لگی کہ جدا ہونے والے محبوب کے مقابلہ میں یہ مال بہت ہی کم ہے تو قاصد نے حسن بن علی کو بتایا تو وہ رو پڑے اور فرمایا : اگر میں نے اپنے باپ کو اپنے نانا یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہے جب تک وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے تو میں رجوع کرلیتا۔