(۱۴۴۹۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ شُعْبَۃَ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : جَائَ تِ امْرَأَۃٌ إِلَی شُرَیْحٍ تُخَاصِمُ زَوْجَہَا تَسْأَلُہُ الْمُتْعَۃَ وَقَدْ کَانَ طَلَّقَہَا قَالَ فَقَرَأَ شُرَیْحٌ {وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِینَ} فَقَالَ لَہُ : مَتِّعْہَا وَلَمْ یَقْضِ لَہَا۔
وَرُوِّینَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ عَنْ شُرَیْحٍ أَنَّہُ قَالَ لِرَجُلٍ فَارَقَ : لاَ تَأْبَی أَنْ تَکُونَ مِنَ الْمُتَّقِینَ لاَ تَأْبَی أَنْ تَکُونَ مِنَ الْمُحْسِنِینَ۔
وَعَنْ إِبْرَاہِیمَ وَالشَّعْبِیِّ عَنْ شُرَیْحٍ : إِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُتَّقِینَ فَمَتِّعْ وَلَمْ یُجْبِرْہُ۔
وَرُوِّینَا عَنْ شُرَیْحٍ أَنَّہُ جَبَرَہُ عَلَی الْمُتْعَۃِ فِی الْمُفَوَّضَۃِ قَبْلَ الدُّخُولِ۔ [ضعیف]
(١٤٤٩٥) حکم فرماتے ہیں کہ ایک عورت جس کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی، وہ اس سے فائدہ پہنچانے کا سوال کرتی تھی، مقدمہ قاضی شریح کی عدالت میں آیا تو قاضی شریح نے یہ آیت تلاوت کی : { وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ۔ } [البقرۃ ٢٤١] تو قاضی شریح نے کہا : فائدہ پہنچاؤ اس کا فیصلہ نہ کیا۔
(ب) قاضی شریح نے اس شخص سے کہا جس نے اپنی بیوی کو چھوڑا تھا کہ تو پرہیزگاروں اور نیکی کرنے والوں میں سے ہونے کا انکار نہ کر۔
(ج) شعبی قاضی شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : اگر تو متقین میں سے ہے تو پھر اس کو فائدہ پہنچاؤ، لیکن زبردستی نہ کی۔ قاضی شریح نے دخول سے پہلے طلاق یافتہ کو فائدہ پہنچانے میں زبردستی کی تھی۔