(۱۴۵۱۲) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا جَدِّی أَبُو عَمْرٍو حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ کَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِینِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِیٍّ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی الْحَرَشِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْبَکَّائِیُّ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : طَعَامُ أَوَّلِ یَوْمٍ حَقٌّ وَالثَّانِی مِثْلُہُ ۔ وَفِی رِوَایَۃِ السُّلَمِیِّ : طَعَامُ یَوْمٍ حَقٌّ وَطَعَامُ یَوْمَیْنِ سُنَّۃٌ وَطَعَامُ الْیَوْمِ الثَّالِثِ سُمْعَۃٌ وَرِیَاء ٌ وَمَنْ یُسَمِّعْ یُسَمِّعِ اللَّہُ بِہِ ۔ وَلَمْ یَذْکُرِ السُّلَمِیُّ قَوْلَہُ رِیَاء ٌ۔
وَرَوَاہُ بَکْرُ بْنُ خُنَیْسٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی سُفْیَانَ عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَمَرَ بِالنِّطَعِ فَبُسِطَ ثُمَّ أَلَقَی عَلَیْہِ تَمْرًا وَسَوِیقًا فَدَعَا النَّاسَ فَأَکَلُوا وَقَالَ : الْوَلِیمَۃُ فِی أَوَّلِ یَوْمٍ حَقٌّ وَالثَّانِی مَعْرُوفٌ وَالثَّالِثِ رِیَاء ٌ وَسُمْعَۃٌ ۔ [ضعیف]
(١٤٥١٢) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہلے اور دوسرے دن کے ولیمہ کا کھانا حق ہے۔ سلمیٰ کی روایت میں ہے کہ ایک دن کا کھانا حق، دو دن کا سنت اور تیسرے دن کا کھانا ریاکاری اور شہرت ہے اور جس نے شہرت کی اللہ قیامت کے دن اس کی شہرت کردیں گے اور سلمی نے ریا کا لفظ ذکر نہیں کیا۔
(ب) حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ام سلمہ سے شادی کی تو دستر خوان بچھانے کا حکم فرمایا۔ دستر خوان بچھا کر اس پر کھجور اور ستو ڈال دیے گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو دعوت دی تو انھوں نے کھائے اور فرمایا : ولیمہ پہلے دن کا حق، دوسرے دن بھلائی اور تیسرا دن ریاکاری اور شہرت کا ہے۔