(۱۴۵۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ قُلْتُ لِلزُّہْرِیِّ : یَا أَبَا بَکْرٍ کَیْفَ حَدَّثْتَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الأَغْنِیَائِ فَضَحِکَ وَقَالَ : لَیْسَ ہُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الأَغْنِیَائِ ۔ قَالَ سُفْیَانُ وَکَانَ أَبِی غَنِیًّا فَأَفْزَعَنِی ہَذَا الْحَدِیثُ حِینَ سَمِعْتُ بِہِ فَسَأَلْتُ الزُّہْرِیَّ فَقَالَ حَدَّثَنِی الأَعْرَجُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ یَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیمَۃِ یُدْعَی إِلَیْہَا الأَغْنِیَائُ وَیُمْنَعُہَا الْمَسَاکِینُ وَمَنْ لَمْ یُجِبِ الدَّعْوَۃَ فَقَدْ عَصَی اللَّہَ وَرَسُولَہُ۔
وَکَانَ سُفْیَانُ رُبَّمَا رَفَعَ ہَذَا الْحَدِیثَ وَرُبَّمَا لَمْ یَرْفَعْہُ إِلاَّ فِی آخِرِہِ۔[صحیح۔ قال ابن الجوزی فی العلل ۱۰۳۲]
(١٤٥٢١) سفیان کہتے ہیں : میں نے زہری سے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مالدار لوگوں کے کھانے کو بدترین کیسے کہہ دیا۔ وہ ہنس پڑے اور فرمانے لگے : کیا مالدار لوگوں کا کھانا بدترین نہیں ہے۔ سفیان کہتے ہیں کہ میرا باپ غنی تھا مجھے اس حدیث نے گھبراہٹ میں ڈال دیا، کہتے ہیں : میں نے زہری سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا : مجھے اعرج نے بیان کیا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ولیمہ کا وہ کھانا جس میں مالدار لوگوں کو بلایا جائے اور فقراء کو چھوڑ دیا جائے بدترین ہے اور جس نے دعوت کو قبول نہ کیا اس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی۔