(۱۴۵۴۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّیُّ وَزِیَادُ بْنُ الْخَلِیلِ قَالاَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِی وَائِلٍ عَنْ أَبِی مَسْعُودٍ : عُقْبَۃَ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ أَبُو شُعَیْبٍ أَبْصَرَ فِی وَجْہِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- الْجُوعَ وَکَانَ لَہُ غُلاَمٌ لَحَّامٌ فَقَالَ : اصْنَعْ لِی طَعَامًا لَعَلِّی أَدْعُو رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَامِسَ خَمْسَۃٍ فَدَعَاہُ فَتَبِعَہُمْ رَجُلٌ لَمْ یُدْعَ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ ہَذَا قَدْ تَبِعَنَا فَتَأْذَنُ لَہُ؟ ۔ قَالَ : نَعَمْ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ عَنْ أَبِی عَوَانَۃَ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ أَوْجُہٍ عَنِ الأَعْمَشِ۔
[صحیح۔ بخاری ۲۰۸۱۔ ۲۴۵۶۔ ۵۴۳۴۔ ۵۴۶۱]
(١٤٥٤٣) ابو وائل حضرت ابو مسعود یعنی عقبہ بن عمرو (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص جس کو ابو شعیب کہا جاتا تھا، اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے بھوک محسوس کیا تو اپنے قصاب بیٹے سے کہا کہ آپ ہمارے لیے کھانا پکائیں شاید میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمیت پانچ آدمیوں کو کھانے کی دعوت دوں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو ان کے پیچھے ایک شخص بغیر دعوت کے آگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھر والے سے کہا کہ یہ ہمارے پیچھے بغیر دعوت کے آگیا ہے، کیا آپ اس کو اجازت دیتے ہیں ؟ اس نے اجازت دے دی۔