(۱۴۵۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُمْہَانَ عَنْ سَفِینَۃَ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ : أَنَّ رَجُلاً ضَافَ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَصَنَعَ لَہُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَکَلَ مَعَنَا فَدَعَوْہُ فَجَائَ فَوَضَعَ یَدَہُ عَلَی عِضَادَتَیِ الْبَابِ فَرَأَی الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ مِنْ نَاحِیَۃِ الْبَیْتِ فَرَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : الْحَقْہُ انْظُرْ مَا رَجَعَہُ فَتَبِعْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا رَدَّکَ؟ فَقَالَ : إِنَّہُ لَیْسَ لِی أَوْ لِنَبِیٍّ أَنْ یَدْخُلَ بَیْتًا مُزَوَّقًا۔ [حسن]
(١٤٥٦٠) ابو عبدالرحمن سفینہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت علی (رض) کا مہمان ٹھہرا۔ انھوں نے مہمان کے لیے کھانا پکایا تو حضرت فاطمہ نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلا لو، وہ ہمارے ساتھ کھا لیں تو حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر کی دہلیز پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوگئے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر کے ایک کونے میں لگے ہوئے پردے کو دیکھ کر پیچھے چلے گئے۔ حضرت فاطمہ (رض) نے علی سے کہا : دیکھو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس کیوں چلے گئے، حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں پیچھے چلا تو میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو کس چیز نے واپس کردیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے یا کسی نبی کے لائق نہیں کہ وہ کسی مزین گھر میں داخل ہو۔