(۱۴۵۷۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی الْحَسَنِ : أَنَّ رَجُلاً أَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فَقَالَ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّی إِنْسَانٌ إِنَّمَا مَعِیشَتِی مِنْ صَنْعَۃِ یَدِی إِنِّی أَصْنَعُ ہَذِہِ التَّصَاوِیرَ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ : ادْنُہْ ادْنُہْ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ صَوَّرَ صُورَۃً فِی الدُّنْیَا کُلِّفَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنْ یَنْفُخَ فِیہَا الرُّوحَ وَلَیْسَ بِنَافِخٍ ۔ قَالَ : فَرَبَا لَہَا الرَّجُلُ رَبْوَۃً شَدِیدَۃً وَقَالَ : وَیْحَکَ إِنْ أَبَیْتَ إِلاَّ أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَیْکَ بِالشَّجَرِ وَمَا لَیْسَ فِیہِ الرُّوحُ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ عَوْفٍ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ سَعِیدٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۲۲۲۵۔ ۷۰۴۲]
(١٤٥٧٩) سعید بن ابو حسن فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا : تصاویر بنانا میرا پیشہ ہے، میں اس سے روزی کماتا ہوں تو ابن عباس (رض) نے فرمایا : میرے قریب ہو جاؤ؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے دنیا میں تصویر بنائی قیامت کے دن اس کو مکلف ٹھہرایا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے حالانکہ وہ روح پھونک نہ سکے گا۔ اس شخص نے زیادہ بحث کی تو فرمانے لگے : تو ہلاک ہو اگر بنانی ہیں تو درختوں کی تصاویر بنا لیا کرو جس میں روح نہیں ہوتی۔