(۱۴۵۸۲) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی ذِئْبٍ عَنْ شُعْبَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَۃَ دَخَلَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبَّاسٍ یَعُودُہُ فَرَأَی عَلَیْہِ ثَوْبَ إِسْتَبْرَقٍ فَقَالَ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ مَا ہَذَا الثَّوْبُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : وَمَا ہُوَ؟ قَالَ : الإِسْتَبْرَقُ۔ قَالَ : إِنَّمَا کُرِہَ ذَلِکَ لِمَنْ یَتَکَبَّرُ فِیہِ۔ قَالَ : مَا ہَذِہِ التَّصَاوِیرُ فِی الْکَانُونِ؟ قَالَ : لاَ جَرَمَ أَلَمْ تَرَ کَیْفَ أُحْرِقُہَا بِالنَّارِ۔ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ : انْزِعُوا ہَذَا الثَّوْبَ عَنِّی وَاقْطَعُوا رُئُ وسَ ہَذِہِ التَّصَاوِیرِ الَّتِی فِی الْکَانُونِ فَقَطَعَہَا۔ [صحیح]
(١٤٥٨٢) حضرت مسور بن مخرمہ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کی بیمار پرسی کے لیے گئے تو ان پر مزین قسم کا لباس دیکھا یعنی ریشم کا تو کہنے لگے : اے ابن عباس ! یہ کیا کپڑا ہے ؟ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : وہ کیا ہے ؟ فرمایا : ریشم۔ فرمانے لگے : تکبر کرنے والے کے لیے جائز نہیں ہے۔ کہنے لگے : یہ قالین پر کیسی تصاویر ہیں ؟ فرمانے لگے : میں اس کو آگ سے جلا دوں گا۔ جب مسور چلے گئے تو ابن عباس (رض) فرمانے لگے : اس قالین یا کپڑے کو مجھ سے دورلے جاؤ۔ ان تصاویر کے سر کاٹ دو تو انھوں نے کاٹ ڈالے۔