(۱۴۶۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ: کَانَ رِجَالٌ زَمْنَی عُمْیٌ وَعُرْجٌ أُولِی حَاجَۃٍ یَسْتَتْبِعُہُمْ رِجَالٌ إِلَی بُیُوتِہِمْ فَإِنْ لَمْ یَجِدُوا لَہُمْ فِی بُیُوتِہِمْ طَعَامًا ذَہَبُوا بِہِمْ إِلَی بُیُوتِ آبَائِہِمْ وَبُیُوتِ أُمَّہَاتِہِمْ وَمَنْ عُدَّ مَعَہُمْ مِنَ الْبُیُوتِ فَکَرِہَ ذَلِکَ الْمُسْتَتْبِعُونَ وَقَالُوا: یَذْہَبُونَ بِنَا إِلَی بُیُوتٍ غَیْرِ بُیُوتِہِمْ فَأَنْزَلَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی ذَلِکَ {لاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ} فِی ذَلِکَ وَأَحَلَّ لَہُمُ الطَّعَامَ مِنْ حَیْثُ وَجَدُوہُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : یَعْنِی إِذَا رَضِیَ بِہِ مَالِکُہُ وَکَانُوا یَتَحَرَّجُونَ مَعَ رِضَا الْمَالِکِ بِہِ فَرُفِعَ الْحَرَجُ إِذَا کَانَ ذَلِکَ بِرِضَاہُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [صحیح]
(١٤٦٠٢) مجاہد فرماتے ہیں کہ کچھ نابینے، لنگڑے اور ضرورت مند کسی کے پیچھے ان کے گھر تک جاتے۔ اگر وہ اشخاص اپنے گھروں میں ان کے لیے کھانا نہ پاتے تو ان کو اپنے والدین کے گھروں پر لے جاتے۔ جو انھوں نے اپنے گھروں کے ساتھ تعمیر کیے ہوتے تھے تو پیچھے جانے والے اس کو برا خیال کرتے اور کہتے کہ وہ اپنے گھروں سے دوسرے گھروں کی طرف لے جاتے ہیں تو اس کے بارے میں اللہ نے یہ آیت نازل کی : { لَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ } [البقرۃ ٢٣٦] ” ان کے لیے کھانا حلال ہے جہاں بھی وہ پائیں۔ “
شیخ (رح) فرماتے ہیں مالک کے رضا مندی کے باوجود حرج محسوس کرنا درست نہیں کیونکہ مالک کی رضا سے حرج ختم ہوچکا۔