(۱۴۶۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا زُہَیْرٌ حَدَّثَنَا سُہَیْلٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : مَنْ نَامَ وَفِی یَدِہِ غَمَرٌ وَلَمْ یَغْسِلْہُ فَأَصَابَہُ شَیْء ٌ فَلاَ یَلُومَنَّ إِلاَّ نَفْسَہُ ۔
وَحَدِیثُ سُوَیْدِ بْنِ النُّعْمَانِ فِی مَضْمَضَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَمَضْمَضَتِہِمْ بَعْدَ أَکْلِہِمُ السَّوِیقَ دَلِیلٌ فِی ہَذَا الْبَابِ وَقَدْ مَضَی فِی کِتَابِ الطَّہَارَۃِ فَالْحَدِیثُ فِی غَسْلِ الْیَدِ بَعْدَ الطَّعَامِ حَسَنٌ وَہُوَ قَبْلَ الطَّعَامِ ضَعِیفٌ وَفِی الْحَدِیثِ الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- أَتَی الْخَلاَئَ ثُمَّ رَجَعَ فَأُتِیَ بِطَعَامٍ فَقِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَلاَ تَتَوَضَّأُ قَالَ : لِمَ؟ أُصَلِّی فَأَتَوَضَّأَ ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ، دون قولہ یغسلہ]
(١٤٦٠٦) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو سو گیا اور اس کے ہاتھ میں چکناہٹ ہو، اس کو دھویا نہیں، پھر کسی چیز نے ڈس لیا تو وہ اپنے نفس کو ملامت کرے۔
(ب) سوید بن نعمان کی حدیث ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) ستو کھانے کے بعد کلی کرتے تھے اور کتاب الطہارۃ میں حدیث کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے بارے میں حسن ہے اور کھانے سے پہلے ہاتھوں کا دھونا، یہ ضعیف حدیث ہے۔
(ج) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ بیت الخلاء آئے اور واپس پلٹے تو کھانا لایا گیا تو کہا گیا : کیا آپ اللہ کے رسول وضو نہ فرمائیں گے ؟ آپ نے پوچھا : کیوں ؟ میں نماز پڑھوں گا تو وضو کرلوں گا۔