(۱۴۶۳۳) أَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمُوَیْہِ الْعَسْکَرِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلاَنِسِیُّ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِی إِیَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ حَدَّثَنَا جَبَلَۃُ بْنُ سُحَیْمٍ قَالَ : أَصَابَنَا عَامُ سَنَۃٍ مَعَ ابْنِ الزُّبَیْرِ فَرَزَقَنَا تَمْرًا فَکَانَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ یَمُرُّ بِنَا وَنَحْنُ نَأْکُلُ فَیَقُولُ : لاَ تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَی عَنِ الإِقْرَانِ ثُمَّ قَالَ : إِلاَّ أَنْ یَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاہُ۔ قَالَ شُعْبَۃُ : الإِذْنُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَۃَ۔ [صحیح۔ مسلم ۲۰۴۵]
(١٤٦٣٣) جبلہ بن لحیم فرماتے ہیں کہ ہمیں حضرت ابن زبیر (رض) کے ساتھ کھجوریں ملیں، حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ہمارے پاس سے گزرے، فرمانے لگے : دو دو ملا کر نہ کھایا کرو؛ کیونکہ اس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے الایہ کہ ساتھی اجازت دے دیں۔ شعبہ کہتے ہیں : اذن یہ حضرت ابن عمر (رض) کا قول ہے۔