(۱۴۶۵۳) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ : أُہْدِیَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- شَاۃٌ وَالطَّعَامُ یَوْمَئِذٍ قَلِیلٌ فَقَالَ لأَہْلِہِ : أَصْلِحُوا ہَذِہِ الشَّاۃَ وَانْظُرُوا إِلَی ہَذَا الْخُبْزِ فَاثْرُدُوا وَاغْرِفُوا عَلَیْہِ ۔ وَکَانَتْ لِلنَّبِیِّ -ﷺ- قَصْعَۃٌ یُقَالُ لَہَا الْغَرَّائُ یَحْمِلُہَا أَرْبَعَۃُ رِجَالٍ فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحَی أُتِیَ بِتِلْکَ الْقَصْعَۃِ فَالْتَفُّوا عَلَیْہَا فَلَمَّا کَثُرُوا جَثَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ أَعْرَابِیٌّ : مَا ہَذِہِ یَعْنِی الْجِلْسَۃَ؟ قَالَ : إِنَّ اللَّہَ جَعَلَنِی عَبْدًا کَرِیمًا وَلَمْ یَجْعَلْنِی جَبَّارًا عَصِیًّا کُلُوا مِنْ جَوَانِبِہَا وَدَعُوا ذِرْوَتَہَا یُبَارَکْ فِیہَا ۔ ثُمَّ قَالَ : خُذُوا کُلُوا فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ لَیُفْتَحَنَّ عَلَیْکُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ حَتَّی یَکْثُرَ الطَّعَامُ فَلاَ یُذْکَرَ عَلَیْہِ اسْمُ اللَّہِ ۔ [صحیح]
(١٤٦٥٣) حضرت عبداللہ بن بسر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک بکری تحفہ میں دی گئی اور اس دن کھانا کم تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھر والوں سے کہا : یہ بکری پکا کر روٹیوں کا ثرید بنادو اور ان کے اوپر انڈیل دینا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک پلیٹ جس کو غراء کہا جاتا تھا اس کو چار آدمی اٹھاتے تھے جب چاشت کا وقت ہوتا اور چاشت کی نماز پڑھ لیتے یہ پلیٹ لائی جاتی تو اس کے ارد گرد وہ دائرہ بنا لیتے۔ جب آدمیوں کی تعداد زیادہ ہوجاتی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے۔ دیہاتی نے کہا : یہ کیسا بیٹھنا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے مجھے معزز بندہ بنایا ہے اور مجھے نہ فرمان و جابر نہیں بنایا۔ تم اس کے اطراف سے کھاؤ اور درمیان کو چھوڑ دو اس میں برکت دی جائے گی۔ پھر فرمایا : پکڑو کھاؤ اللہ کی قسم ! جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے فارس اور روم فتح کیے جائیں گے، کھانا عام ہوگا لیکن اس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے گا۔