(۱۴۶۸۷) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مِہْرَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابَقٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : نَقَلْنَا امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ إِلَی زَوْجِہَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ہَلْ کَانَ مَعَکُمْ لَہْوٌ فَإِنَّ الأَنْصَارَ یُحِبُّونَ اللَّہْوَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ یَعْقُوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَابِقٍ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ : زُفَّتِ امْرَأَۃٌ۔
[صحیح۔ بخاری ۵۱۶۳]
(١٤٦٨٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم نے ایک انصاری عورت کو اس کے خاوند کے پاس منتقل کیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہارے پاس کوئی کھیل ہے؛ کیونکہ انصاری کھیل کو پسند کرتے ہیں۔
(ب) محمد بن سابق بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کی رخصتی کی گئی۔