(۱۴۶۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّ عَمْرَۃَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ : کَانَ النِّسَائُ إِذَا تَزَوَّجَتِ الْمَرْأَۃُ أَوِ الرَّجُلُ خَرَجَ جَوَارٍ مِنْ جَوَارِی الأَنْصَارِ یُغَنِّینَ وَیَلْعَبْنَ قَالَتْ فَمَرُّوا فِی مَجْلِسٍ فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَہُنَّ یُغَنِّینَ وَہُنَّ یَقُلْنَ
أَہْدَی لَہَا زَوْجُہَا أَکْبُشَ تُبَحْبِحْنَ فِی الْمِرْبَدِ
وَزَوْجُہَا فِی النَّادِی یَعْلَمُ مَا فِی غَدِ
وَإِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَامَ إِلَیْہِنَّ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّہِ لاَ یَعْلَمُ مَا فِی غَدٍ أَحَدٌ إِلاَّ اللَّہُ لاَ تَقُولُوا ہَکَذَا وَقُولُوا۔ أَتَیْنَاکُمْ أَتَیْنَاکُمْ فَحَیَّانَا وَحَیَّاکُمْ ۔
ہَذَا مُرْسَلٌ جَیِّدٌ۔ [ضعیف]
(١٤٦٨٩) عمرہ بنت عبدالرحمن (رض) فرماتی ہیں کہ جب کسی مرد یا عورت کی شادی ہوتی تو انصاری بچیاں گاتیں اور کھیلتیں۔ عمرہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اس مجلس سے گزر ہوا تو وہ بچیاں گاتے ہوئے کہہ رہی تھیں :
اس کے خاوند نے تحفہ میں مینڈھے دیے جنہیں باڑے میں ٹھہرایا گیا ہے اور اس کا خاوند لوگوں میں ایسا انسان ہے جو کل کی بات بھی جانتا ہے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف گئے اور فرمایا : اللہ پاک ہے، اللہ کے علاوہ کل کی بات کوئی نہیں جانتا تم اس طرح کہو۔
ہم تمہارے پاس آئے ہم تمہارے پاس آئے ہمیں خوش آمدید ہو اور تمہیں مبارک ہو۔