(۱۴۷۱۳) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ لَیْثٍ عَنْ عَطَائٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- : أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتْہُ فَقَالَتْ : مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَی امْرَأَتِہِ فَقَالَ: لاَ تَمْنَعُہُ نَفْسَہَا وَإِنْ کَانَتْ عَلَی ظَہْرِ قَتَبٍ وَلاَ تُعْطِی مِنْ بَیْتِہِ شَیْئًا إِلاَّ بِإِذْنِہِ فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِکَ کَانَ لَہُ الأَجْرُ وَعَلَیْہَا الْوِزْرُ وَلاَ تَصُومُ یَوْمًا تَطَوُّعًا إِلاَّ بِإِذْنِہِ فَإِنْ فَعَلَتْ أَثِمَتْ وَلَمْ تُؤْجَرْ وَلاَ تَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ إِلاَّ بِإِذْنِہِ فَإِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْہَا الْمَلاَئِکَۃُ مَلاَئِکَۃُ الْغَضَبِ وَمَلاَئِکَۃُ الرَّحْمَۃِ حَتَّی تَتُوبَ أَوْ تُرَاجِعَ ۔ قِیلَ : وَإِنْ کَانَ ظَالِمًا قَالَ : وَإِنْ کَانَ ظَالِمًا ۔ [ضعیف]
(١٤٧١٣) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے پوچھا : خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے ؟ فرمایا : وہ اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اگرچہ وہ سواری پر ہی کیوں نہ ہو اور گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر نہ دے۔ اگر تم نے کیا تو خاوند کو اجر اور تم کو گناہ ملے گا اور ایک دن کا نفلی روزہ بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔ اگر ایسا کرو گی تو گناہ گار ہوگی اجر بھی نہ ملے گا اور خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے بھی نہ نکلے۔ اگر ایسا کرو گی تو عذاب کے فرشتے اس کے واپس آنے تک لعنت کرتے رہیں گے۔ کہا گیا : اگر خاوند ظالم ہی ہو ؟ فرمایا : اگرچہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہو۔