(۱۴۷۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً قَالاَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاکِہِیُّ بِمَکَّۃَ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی بْنُ أَبِی مَسَرَّۃَ حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ نَافِعٍ الْمَکِّیُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ صَفِیَّۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ امْرَأَۃً مِنَ الأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَۃً لَہَا فَاشْتَکَتْ فَسَقَطَ شَعَرُہَا فَجَائَ تْ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَتْ : إِنَّ زَوْجَہَا أَمَرَنِی أَنْ أَصِلَ فِی شَعَرِہَا فَقَالَ : لاَ إِنَّہُ قَدْ لُعِنَ الْمُوصِلاَتُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ خَلاَّدِ بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح۔ متفق علیہ]
(١٤٧٢١) حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک انصاری عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی تو بیمار ہونے کی وجہ سے اس کی بال گرگئے تو وہ اپنی بیٹی کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور اس کا تذکرہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا۔ اس نے کہا کہ اس کے خاوند مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کے بال لگوا دوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں کیونکہ بال لگوانے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔