(۱۴۷۲۳) وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَإِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ لَنْ تَسْتَقِیمَ لَکَ عَلَی طَرِیقَۃٍ فَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِہَا اسْتَمْتَعْتَ وَبِہَا عِوَجٌ وَإِنْ ذَہَبْتَ تُقِیمُہَا کَسَرْتَہَا وَکَسْرُہَا طَلاَقُہَا ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی عُمَرَ وَأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ مَالِکٍ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ۔
[صحیح۔ متفق علیہ]
(١٤٧٢٣) حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے آپ ہرگز اس کو سیدھا نہیں کرسکتے۔ اگر آپ اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں تو اس کے ٹیڑھے پن کے ہوتے ہوئے فائدہ اٹھاؤ۔ اگر آپ کو سیدھا کرنا چاہیں گے تو توڑ ڈالیں گے اور اس کا توڑنا طلاق ہے۔