(۱۴۷۴۱) وَبِہَذَا الإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَنْ تَسْتَطِیعَ أَنْ تَعْدِلَ فِیمَا بَیْنَہُنَّ وَلَوْ حَرَصْتَ وَہُوَ قَوْلُہُ {وَأُحْضِرَتِ الأَنْفُسُ الشُّحَّ} وَالشُّحُّ ہَوَاہُ فِی الشَّیْئِ یَحْرِصُ عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ {وَلاَ تَمِیلُوا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ} یَقُولُ : تَذَرُہَا لاَ أَیِّمًا وَلاَ ذَاتَ بَعْلٍ۔ [ضعیف]
(١٤٧٤١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ کوشش کے باوجود عدل نہ کرسکیں گے : { وَ اُخْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ } [النساء ١٢٨] حاضر کی گیں جانیں بخیلی پر۔ کسی ایسی چیز کی خواہش جس کا آدمی حریص ہو شح کہلاتی ہے، پھر فرمایا : { فَلَا تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ } [النساء ١٢٩] ” کہ تم بیوہ اور خاوند والی کو چھوڑ دیتے ہو۔