(۱۴۷۴۵) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یَزِیدَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَقْسِمُ فَیَعْدِلُ فَیَقُولُ : اللَّہُمَّ ہَذَا قَسْمِی فِیمَا أَمْلِکُ فَلاَ تَلُمْنِی فِیمَا تَمْلِکُ وَلاَ أَمْلِکُ ۔
قَالَ الْقَاضِی یَعْنِی الْقَلْبَ وَہَذَا فِی الْعَدْلِ بَیْنَ نِسَائِہِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَبَلَغَنَا أَنَّہُ کَانَ یُطَافُ بِہِ مَحْمُولاً فِی مَرَضِہِ عَلَی نِسَائِہِ حَتَّی حَلَلْنَہُ۔ [منکر]
(١٤٧٤٥) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باری کی تقسیم میں انصاف فرماتے اور کہتے : اے اللہ ! یہ میری تقسیم ہے جس کا میں مالک ہوں تو مجھے اس کے بارے میں ملامت نہ کرنا جس کا تو مالک ہے، میں مالک نہیں ہوں۔ قاضی فرماتے ہیں : دل مراد ہے اور یہ عدل عورتوں کے درمیان ہے، امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی حساب سے اپنی عورتوں کے پاس آیا کرتے تھے یہاں تک کہ انھوں نے بیماری کی حالت میں اجازت دے دی۔