(۱۴۷۴۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنِی أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِیُّ عَنْ یَزِیدَ بْنِ بَابَنُوسَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- بَعَثَ إِلَی النِّسَائِ فِی مَرَضِہِ فَاجْتَمَعْنَ فَقَالَ : إِنِّی لاَ أَسْتَطِیعُ أَنْ أَدُورَ بَیْنَکُنَّ فَإِنْ رَأَیْتُنَّ أَنْ تَأْذَنَّ لِی أَنْ أَکُونَ عِنْدَ عَائِشَۃَ فَعَلْتُنَّ ۔ فَأَذِنَّ لَہُ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَبَلَغَنِی أَنَّہُ سُئِلَ فَقِیلَ : أَیُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَیْکَ؟ فَقَالَ : عَائِشَۃُ ۔ [ضعیف]
(١٤٧٤٧) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی مرض الموت میں عورتوں کو پیغام بھیجا، وہ ساری جمع ہوئیں تو آپ نے فرمایا کہ اب میں تمام کے پاس آنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اگر تم مجھے عائشہ کے پاس رہنے کی اجازت دے دو تو انھوں نے اجازت دے دی۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ محبوب کون ہے فرمایا : عائشہ۔