(۱۴۷۶۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِی أُسَامَۃَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ حَدَّثَنَا حَبِیبُ بْنُ أَبِی ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِیدِ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی عَمْرٍو وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ أَخْبَرَاہُ أَنَّہُمَا سَمِعَا أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ یُخْبِرُ : أَنَّ أُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِینَۃَ أَخْبَرَتْہُمْ أَنَّہَا ابْنَۃُ أَبِی أُمَیَّۃَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ فَکَذَّبُوہَا وَیَقُولُونَ : مَا أَکْذَبَ الْغَرَائِبَ حَتَّی أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْہُمْ فِی الْحَجِّ فَقَالُوا : تَکْتُبِینَ إِلَی أَہْلِکِ فَکَتَبْتُ مَعَہُمْ فَرَجَعُوا إِلَی الْمَدِینَۃِ فَصَدَّقُوہَا فَازْدَادَتْ عَلَیْہِمْ کَرَامَۃً قَالَتْ فَلَمَّا وَضَعْتُ زَیْنَبَ جَائَ نِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَخَطَبَنِی فَقُلْتُ : مَا مِثْلِی تُنْکَحُ أَمَّا أَنَا فَلاَ وَلَدَ فِیَّ وَأَنَا غَیُورٌ ذَاتُ عِیَالٍ فَقَالَ : أَنَا أَکْبَرُ مِنْکِ وَأَمَّا الْغَیْرَۃُ فَیُذْہِبُہَا اللَّہُ وَأَمَّا الْعِیَالُ فَإِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ ۔ فَتَزَوَّجَہَا فَجَعَلَ یَأْتِیہَا فَیَقُولُ : کَیْفَ زُنَابُ أَیْنَ زُنَابُ؟ ۔ فَجَائَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَاخْتَلَجَہَا فَقَالَ : ہَذِہِ تَمْنَعُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- وَکَانَتْ تُرْضِعُہَا فَجَائَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَقَالَ : أَیْنَ زُنَابُ؟ ۔ فَقَالَتْ قُرَیْبَۃُ ابْنَۃُ أَبِی أُمَیَّۃَ وَوَافَقَہَا عِنْدَہَا : أَخَذَہَا عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: إِنِّی آَتِیکُمُ اللَّیْلَۃَ۔ قَالَتْ : فَوَضَعْتُ ثِفَالِی وَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِیرٍ وَکَانَتْ فِی جَرٍّ۔
وَفِی رِوَایَۃِ أَبِی عَبْدِ اللَّہِ : فِی جَرِیبٍ وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُہُ فَبَاتَ ثُمَّ أَصْبَحَ فَقَالَ حِینَ أَصْبَحَ : إِنَّ لَکِ عَلَی أَہْلِکِ کَرَامَۃً فَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَکِ وَإِنْ أُسَبِّعْ أُسَبِّعْ لِنِسَائِی ۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
(١٤٧٦٠) ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام فرماتے ہیں کہ ام سلمہ (رض) نے ان کو خبر دی کہ جب وہ مدینہ آئیں تو ان کو خبر دی گئی کہ ابو امیہ بن مغیرہ کی بیٹی ہے تو انھوں نے اس کی تکذیب کردی۔ وہ کہنے لگے : کیا اس نے اجنبی کی تکذیب کردی۔ یہاں تک کہ ان کے کچھ لوگ حج کرنے آئے تو انھوں نے کہا کہ تم اپنے اہل کو لکھو، میں نے خط لکھ کردیا۔ جب وہ مدینہ آئے تو انھوں نے اس کی تصدیق کردی۔ وہ عزت و مرتبہ کے اعتبار زیادہ ہوگئی۔ فرماتی ہیں : جب میں نے بچی کو جنم دیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے کہا : میری جیسی نکاح نہیں کی جاتی۔ میں تو اپنے عیال کے بارے میں بڑی غیرت مند ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں آپ سے بڑا ہوں، اللہ اس کو ختم فرما دیں گے اور رہے عیال تو یہ اللہ اور رسول کے لیے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شادی کرلی۔ جب ان کے پاس آتے تو فرماتے : زینب کیسی ہے ؟ زینب کہاں ہے ؟ حضرت عمار بن یاسر (رض) آئے تو وہ کانپ رہی تھی، کہنے لگے : اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو روکا ہوا ہے، وہ اس کو دودھ پلا رہی تھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور پوچھا : زینب کہاں ہے ؟ تو قریبہ و امیہ کی بیٹی کہنے لگی، جو اس کے قریب کھڑی تھی کہ اس کو عمار بن یاسر نے لے لیا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں رات کے وقت آؤں گا، کہنے لگی : میں نے اپنا اناج رکھ لیا ہے اور میں نے جو کے دانے نکال لیے ہیں، جو ایک مٹکے میں تھے اور ابو عبداللہ کی روایت میں ہے، ایک تھیلی میں سے میں نے چربی نکال لی ہے اور میں نے اس کو نچوڑ لیا ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رات گزار کر صبح کی تو فرمایا : تو اپنے گھر والوں کے نزدیک معزز ہے اگر تو چاہے تو میں سات دن تیرے پاس گزارتا ہوں۔ اگر میں نے سات دن گزارے تو دوسری عورتوں کے پاس بھی سات دن ہی گزاروں گا۔