(۱۴۷۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ وَأَبُو بَکْر بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ قَالاَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْعَلاَئِ حَدَّثَنَا زِیَادُ بْنُ أَیُّوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ أَبِی زَائِدَۃَ أَخْبَرَنِی ابْنُ عَوْنٍ عَنِ ابْنِ سِیرِینَ عَنْ عَبِیدَۃَ فَذَکَرَ الْحَدِیثَ بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الْمَرْأَۃِ وَقَالَ : أَرَضِیتِ بِمَا حَکَمَا قَالَتْ : نَعَمْ قَدْ رَضِیتُ بِکِتَابِ اللَّہِ عَلَیَّ وَلِیَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الرَّجُلِ فَقَالَ : قَدْ رَضِیتَ بِمَا حَکَمَا قَالَ : لاَ وَلَکِنْ أَرْضَی أَنْ یَجْمَعَا وَلاَ أَرْضَی أَنْ یُفَرِّقَا۔ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَذَبْتَ وَاللَّہِ لاَ تَبْرَحُ حَتَّی تَرْضَی بِمِثْلِ الَّذِی رَضِیَتْ بِہِ۔ [صحیح]
(١٤٧٨٥) ابن سیرین عبیدہ سے اس کے ہم معنیٰ حدیث روایت کرتے ہیں کہ وہ عورت پر متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تو ان کے فیصلے پر راضی ہے ؟ اس نے کہا : ہاں۔ جو بھی کتاب اللہ کا میرے بارے فیصلہ ہوگا، مجھے منظور ہے، پھر مرد کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا : کیا تو ان کے فیصلہ پر راضی ہیں ؟ تو اس نے کہا : اکٹھا کردیں تب تو راضی ہوں، اگر جدائی کروائیں تب فیصلہ منظور نہیں تو حضرت علی (رض) نے فرمایا : تو نے جھوٹ بولا۔ اللہ کی قسم ! تو اپنی جگہ سے نہ ہٹے گا جب تک عورت کی طرح رضا مندی کا اظہار نہ کرے۔