(۱۴۸۳۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْوَاسِطِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَزْہَرُ بْنُ جَمِیلٍ حَدَّثَنَا الثَّقَفِیُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ حَدَّثَنَا عِکْرِمَۃُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ امْرَأَۃَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ جَائَ تْ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتْ : یَا رَسُولَ اللَّہِ وَاللَّہِ مَا أَعْتِبُ عَلَی ثَابِتٍ فِی خُلُقٍ وَلاَ دِینٍ وَلَکِنْ أَکْرَہُ الْکُفْرَ فِی الإِسْلاَمِ فَقَالَ : أَتَرُدِّینَ عَلَیْہِ حَدِیقَتَہُ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ۔ قَالَ : یَا ثَابِتُ اقْبَلِ الْحَدِیقَۃَ وَطَلِّقْہَا تَطْلِیقَۃً ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَزْہَرَ بْنِ جَمِیلٍ وَأَرْسَلَہُ غَیْرُہُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ۔ [صحیح۔ تقد قبلہ]
(١٤٨٣٨) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں ثابت کے دین و اخلاق میں عیب نہیں لگاتی، لیکن اسلام میں ناشکری کو ناپسند کرتی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو اس کا باغ واپس کر دے گی، کہتی ہیں : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ثابت اپنا باغ لے کر اس کو طلاق دے دو ۔