(۱۴۸۴۱) أَخْبَرَنَا الْفَقِیہُ أَبُو الْقَاسِمِ : عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِیٍّ الْفَامِیُّ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِی عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْعَوْفِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : أَنَّ جَمِیلَۃَ بِنْتَ السَّلُولِ أَتَتِ النَّبِیَّ -ﷺ- تُرِیدُ الْخُلْعَ فَقَالَ لَہَا : مَا أَصْدَقَکِ؟ ۔ قَالَتْ : حَدِیقَۃً قَالَ : فَرُدِّی عَلَیْہِ حَدِیقَتَہُ ۔ [ضعیف]
(١٤٨٤١) حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جمیلہ بنت سلول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی، وہ خلع کا رادہ رکھتی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : تیرا حق مہر کیا تھا ؟ اس عورت نے کہا : باغ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کا باغ واپس کر دو ۔