(۱۴۸۴۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ ہُوَ ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ قَالَ : أَتَتِ امْرَأَۃٌ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أُبْغِضُ زَوْجِی وَأُحِبُّ فِرَاقَہُ فَقَالَ : أَتَرُدِّینَ عَلَیْہِ حَدِیقَتَہُ الَّتِی أَصْدَقَکِ؟ ۔ قَالَ : وَکَانَ أَصْدَقَہَا حَدِیقَۃً قَالَتْ نَعَمْ وَزِیَادَۃً قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَمَّا الزِّیَادَۃُ مِنْ مَالِکِ فَلاَ وَلَکِنْ الْحَدِیقَۃُ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ فَقَضَی بِذَلِکَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَلَی الرَّجُلِ فَأُخْبِرَ بِقَضَائِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَ قَدْ قَبِلْتُ قَضَائَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔ وَکَذَلِکَ رَوَاہُ غُنْدَرٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ مُرْسَلاً مُخْتَصَرًا۔ [ضعیف۔ تقدم قبلہ]
(١٤٨٤٥) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : میں اپنے خاوند سے بغض رکھتی ہوں اور میں تفریق چاہتی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس نے تجھے حق مہر میں باغ دیا تھا واپس کرتی ہو ؟
راوی بیان کرتے ہیں کہ اس کا حق مہر باغ تھا۔ کہتی ہے : ہاں اور زیادہ بھی دیتی ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : زیادہ تیرا مال ہے، صرف باغ واپس کر دو ۔ کہتی ہے : ٹھیک تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرما دیا، جب اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے کی خبر ملی تو اس نے کہا : مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ منظور ہے۔