(۱۴۸۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ النَّیْسَابُورِیُّ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی أَبُو الزُّبَیْرِ : أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ کَانَتْ عِنْدَہُ زَیْنَبُ بِنْتُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أُبَیِّ بْنِ سَلُولَ وَکَانَ أَصْدَقَہَا حَدِیقَۃً فَکَرِہَتْہُ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَتَرُدِّینَ عَلَیْہِ حَدِیقَتَہُ الَّتِی أَعْطَاکِ ۔ قَالَتْ : نَعَمْ وَزِیَادَۃً فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : أَمَّا الزِّیَادَۃُ فَلاَ وَلَکِنْ حَدِیقَتُہُ ۔ فَقَالَتْ : نَعَمْ فَأَخَذَہَا لَہُ وَخَلَّی سَبِیلَہَا فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِکَ ثَابِتَ بْنَ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : قَدْ قَبِلْتُ قَضَائَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-۔
سَمِعَہُ أَبُو الزُّبَیْرِ مِنْ غَیْرِ وَاحِدٍ وَہَذَا أَیْضًا مُرْسَلٌ۔ [ضعیف]
(١٤٨٤٩) ابو زبیر فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس کے نکاح میں زینب بنت عبداللہ بن ابی بن سلول تھی۔ اس کا حق مہر ایک باغ تھا، اس کو خاوند اچھا نہ لگا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو اس نے باغ تجھے دیا ہے کیا تو واپس کرتی ہے ؟ کہنے لگی : باغ اور کچھ زیادہ بھی دوں گی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صرف باغ واپس کرو زیادہ نہیں تو کہتی ہے : ہاں۔ اس سے خاوند باغ لے لیا اور طلاق دلوا دی۔ جب ثابت بن قیس بن شماس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے کا علم ہوا تو اسے قبول کرلیا۔